یوکرین (اولس نیوز) کے دارالحکومت کیف کے نواحی علاقے میں فوجی اہلکاروں کو مبینہ طور پر غیرقانونی طور پر حراست میں رکھنے کی اطلاعات پر شہریوں اور نیشنل گارڈ کے اہلکاروں کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوگئی۔ مشتعل مظاہرین نے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی، پولیس اور فوجی اہلکاروں پر انڈے پھینکے جبکہ حکام نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ واقعے میں چار فوجی اہلکار زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔
یوکرینی اخبار دی کیف انڈیپینڈنٹ کے مطابق واقعہ 2 نومبر کو کیف کے نواحی گاؤں پیٹروپاولوفسکا بورشچاگیوکا میں پیش آیا، جہاں نیشنل گارڈ کے اہلکار ایک عمارت میں موجود تھے۔ واقعے کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک نجی ایمبولینس کے عملے نے پولیس کو اطلاع دی کہ عمارت کے اندر موجود ایک شخص کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے انہیں داخلے کی اجازت نہیں دی جارہی۔
اس اطلاع کے بعد یہ اطلاعات پھیل گئیں کہ عمارت میں درجنوں فوجی اہلکاروں کو ان کی مرضی کے خلاف کئی ہفتوں سے رکھا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر تقریباً 40 افراد کو عمارت کے تہہ خانے میں حراست میں رکھنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کے دعوے بھی سامنے آئے، تاہم ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
واقعے کی خبر پھیلنے کے بعد بڑی تعداد میں شہری عمارت کے باہر جمع ہوگئے اور فوجی اہلکاروں کی رہائی اور انہیں طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے عمارت کا گیٹ توڑنے کی کوشش کی، پولیس اور نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر انڈے پھینکے جبکہ عمارت تک پہنچنے کے لیے اینٹوں کی دیوار بھی توڑ دی۔ حکام نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی، جبکہ فضا میں فائرنگ کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
یوکرین کے نیشنل گارڈ کے کمانڈر اولیکسینڈر پیونینکو نے تصدیق کی کہ عمارت میں ایسے فوجی اہلکار موجود تھے جو اجازت کے بغیر اپنی فوجی یونٹوں سے غیرحاضر ہوگئے تھے۔ ان کے مطابق چار اہلکاروں کو طبی امداد کی ضرورت تھی جبکہ دیگر افراد نیشنل گارڈ کے اہلکار تھے۔
ایک طبی کارکن کے مطابق وہ قانون نافذ کرنے والے ایک اہلکار کے ہمراہ عمارت میں داخل ہوئی، جہاں چھت سے تہہ خانے تک کم از کم 25 افراد موجود تھے۔ ان میں سے چار کو طبی معائنے اور علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
دوسری جانب یوکرین کے فوجی پراسیکیوٹر کے دفتر نے ان اطلاعات سے مختلف مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ عمارت میں صرف ایک فوجی اہلکار ایسا تھا جو اپنی یونٹ سے غیرحاضر تھا۔ حکام کے مطابق اسے ایک ماہ کے لیے وہاں رکھا گیا تھا تاکہ اسے دوبارہ فوجی خدمات پر واپس لایا جاسکے۔ پراسیکیوٹر کے دفتر نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ فوجی کے اہل خانہ نے اسے فوجی خدمات سے بچانے کے لیے نجی ایمبولینس طلب کی تھی، جبکہ ابتدائی طبی معائنے میں اس کے جسم پر زخموں کے نشانات نہیں ملے۔
نیشنل گارڈ کی پہلی کور ’آزوف‘ نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ عمارت میں کچھ نئے بھرتی ہونے والے فوجی اہلکار موجود تھے جبکہ بعض کو اپنی فوجی یونٹوں سے غیرحاضر ہونے کے بعد وہاں رکھا گیا تھا اور وہ نئی یونٹوں میں تعیناتی کے منتظر تھے۔ بیان کے مطابق چار اہلکار زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کرکے طبی معائنہ کرایا گیا۔
نیشنل گارڈ نے کہا کہ پولیس اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور اگر فوجی اڈے میں غیرقانونی تشدد کا کوئی ثبوت ملا تو اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
یوکرین کی نیشنل پولیس نے بھی عمارت میں لوگوں کو یرغمال بنانے یا کسی شخص کی ہلاکت سے متعلق اطلاعات کی تردید کی۔ پولیس کے مطابق اہلکار نجی ایمبولینس کے عملے کی شکایت پر موقع پر پہنچے تھے، جس نے بتایا تھا کہ عمارت کے اندر موجود ایک شخص تک طبی امداد پہنچانے سے روکا جارہا ہے۔
پولیس کے شعبہ انسدادی کارروائیوں کے سربراہ بورس بریوس نے صحافیوں کو بتایا کہ فوجیوں کی غیرقانونی حراست سے متعلق افواہیں ابتدائی طور پر ایک ایسی خاتون نے پھیلائی تھیں جس نے خود کو ’میڈ پریسٹیج‘ نامی نجی ایمبولینس کمپنی کی مالک ظاہر کیا تھا۔
تاہم یوکرینی خبر رساں ادارے سلِدستوو انفو کے مطابق مذکورہ کمپنی 2023 میں بند ہوچکی تھی جبکہ احتجاج کے مقام پر موجود ایمبولینس بھی کمپنی کے اصل مالک نے 2024 میں فروخت کردی تھی۔ ادارے نے دعویٰ کیا کہ خود کو کمپنی کی مالک ظاہر کرنے والی خاتون ایک پلاسٹک سرجری کلینک میں کام کرتی ہیں، تاہم ان اطلاعات کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
یوکرین کے وزیر داخلہ ایوان ویہوسکی کے مطابق زیرحراست فوجی اہلکاروں کے اہل خانہ کو ان سے رابطے کا موقع فراہم کیا گیا جبکہ طبی عملے اور عوامی نمائندوں کو بھی عمارت میں بلایا گیا۔
یوکرین کی فوجی محتسب اولہا ریشیتیلوفا نے بتایا کہ جائے وقوعہ پر تلاشی اور حالات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق فوجی محتسب کا دفتر نیشنل گارڈ کی کمانڈ کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام فوجی اہلکار محفوظ ہیں اور انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔
واقعے کی سنگینی کے پیش نظر یوکرین کے صدر کے دفتر کے سربراہ کیریلو بودانوف بھی رات تقریباً 10 بجے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ صورتحال کا جائزہ لینے اور یہ جاننے کے لیے آئے ہیں کہ وہاں اصل میں کیا ہورہا ہے۔
بودانوف کے مطابق عمارت میں 14 فوجی اہلکار موجود تھے اور مظاہرین کی جانب سے راستہ بند کیے جانے کے باعث زخمی اہلکاروں کو منتقل کرنے میں مشکلات پیش آرہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی صورتحال کسی صورت پیدا نہیں ہونی چاہیے اور یہ درست عمل نہیں ہے۔
واقعے کے بعد فوجی اہلکاروں کی عمارت میں موجودگی، ان کی تعیناتی اور طبی سہولیات سے متعلق متضاد بیانات سامنے آئے ہیں، جبکہ یوکرینی حکام کی جانب سے تحقیقات جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔




