کتاب ’’اسلامی سیاسیات: اصول و مبادی‘‘ مولانا نیاز محمد درانی کی تصنیف

کتاب ’’اسلامی سیاسیات: اصول و مبادی‘‘ مولانا نیاز محمد درانی کی تصنیف

کتاب “اسلامی سیاسیات: اصول و مبادی” مولانا نیاز محمد درانی کی تصنیف ہے، جسے گوشہِ ادب، کوئٹہ، بلوچستان نے سال رواں میں شائع کیا ہے۔ کتاب کی تقریظ ڈاکتر شاہدالرحمان مارتھ، پوسٹ ڈاکٹریٹ یونیورسٹی آف آکسفورڈ-وزارت مذہبی امور اسلامآباد اور پروفیسر ڈاکٹر نادر بخت منگولوی، سابق سربراہ سیاسیات، یونیورسٹی آف بلوچستان نے لکھی۔ کتاب کی تحقیق و تعلیق عبداللہ خان نے کی ہے۔ جبکہ مولانا قاری عبدالرحمان نورزئی نے شخصیت کا احاطہ کیا ہے۔

مولانا نیاز محمد درانی بلوچستان، پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک نامور اسلامی سکالر، محقق اور سیاسی مدبر تھے۔ آپ کا تعلق پشتونوں کے نورزئی درانی قبیلے سے تھا، اور آپ نے بلوچستان کے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ آپ کو “خطیب بلوچستان” کے نام سے جانا جاتا تھا، جنہیں قرآن، حدیث، اسلامی تاریخ، سیاسی نظریات اور فلسفے پر عبور حاصل تھا۔ آپ عربی، فارسی، اردو اور پشتو زبانوں کے ماہر تھے۔ آپ کے تحقیقی کام، علمی خدمات اور اسلامی نظریات، سیاست و ریاست کے بارے میں منفرد افکار کو اس کتاب میں یکجا کیا گیا ہے۔

مولانا دُرّانی کی شخصیت ایک ہمہ جہت علمی و فکری شخصیت تھی۔ وہ بیک وقت جید عالمِ دین، صاحبِ بصیرت مفکر، اور حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر رکھنے والے مدبر تھے۔ ان کی تحریر میں وہ دردِ دل، بصیرت، اور دور اندیشی نمایاں ہے جو صرف وہی لوگ رکھتے ہیں جو دین و دنیا دونوں کے تقاضوں کو سمجھتے ہیں۔ وہ نہ صرف مدارس کے علمی پس منظر سے تعلق رکھتے تھے بلکہ فلسفہ، سیاسیات، معاشیات اور بین الاقوامی تعلقات جیسے شعبوں پر بھی ان کی گرفت مضبوط تھی۔

یہ حقیقت بھی قابلِ ذکر ہے کہ انہوں نے محض مروجہ مذہبی بیانیہ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنے وقت کے اہم اور بعض اوقات متنازعہ سمجھے جانے والے مسائل پر اجتہادی اور مدلل موقف اپنایا۔ مثال کے طور پر جدید جمہوری طرزِ حکومت میں عورت کی سربراہی کا مسئلہ، جس پر اکثر مذہبی حلقوں میں مشہور آراء ملتی ہیں، مولانا دُرّانیؒ نے قرآن و حدیث اور تاریخِ اسلام کی روشنی میں اس کی نئی تعبیر پیش کی، اور وضاحت کی کہ پارلیمانی جمہوریت میں اصل اختیار کابینہ کو ہوتا ہے۔

کتاب کا پہلا باب مولانا نیاز محمد درانی کی شخصیت اور کردار کا احاطہ کرتا ہے۔ اس میں ان کی حق گوئی، جرأتِ اظہار، غیر معمولی خطابت اور اصلاحی و فکری جدوجہد کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ان کی زندگی دین کی سربلندی، ملت کی بیداری اور معاشرے کی اصلاح کے لیے مسلسل جدوجہد سے عبارت نظر آتی ہے۔

دوسرے باب میں مسلمانوں کے علمی و فکری زوال کے اسباب کا جائزہ لیا گیا ہے۔ مصنف نے فکری جمود، نوآبادیاتی اثرات، صنعتی انقلاب اور دینی قیادت کے کردار کو اس تناظر میں دیکھا ہے اور دعوت، عزیمت اور اسلام کی درست تعبیر کو احیائے امت کے لیے بنیادی ضرورت قرار دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں