سی پیک فیز 2.0 کے تحت بلوچستان کی تبدیلی
تحریر : ڈاکٹر دوست محمد بڑیچ
چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)، جو بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کا ایک اہم منصوبہ ہے، اب سی پیک فیز 2.0 میں داخل ہو چکی ہے۔ اس مرحلے میں توجہ بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں سے ہٹ کر زرعی جدیدکاری، صنعتی ترقی اور سماجی و معاشی بہتری پر مرکوز کی جا رہی ہے۔ سی پیک فیز 2.0 تجارت کے فروغ، خصوصی اقتصادی زونز، اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط کرے گی، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور غربت میں کمی آئے گی۔ تاہم ایک اہم سوال یہ ہے کہ سی پیک فیز 2.0 میں بلوچستان کا کیا مقام ہے؟ اکتوبر 2025 میں بلوچستان اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ صوبے کو سی پیک فیز 2.0 میں مؤثر طور پر شامل کیا جائے۔ اسمبلی اراکین کا مؤقف تھا کہ اب تک بلوچستان کو اس میگا منصوبے کے خاطر خواہ ثمرات حاصل نہیں ہوئے۔ اس لیے بلوچستان کی شمولیت کے ساتھ ساتھ انسانی وسائل کی ترقی پر بھی خصوصی توجہ ضروری ہے۔
انسانی ترقی کی رپورٹ 2021 کے مطابق پاکستان انسانی ترقی کے اشاریے میں 189 ممالک میں 144ویں نمبر پر تھا۔ ملک میں افرادی قوت کی شرکت خطے میں سب سے کم ہے، جبکہ بلوچستان اس معاملے میں مزید پیچھے ہے۔ پاکستان میں خواتین کی معاشی شمولیت تقریباً 23 فیصد ہے جبکہ بلوچستان میں یہ شرح صرف 5 فیصد ہے۔ سی پیک فیز 2.0 کے تحت خصوصی اقتصادی زونز کو کامیاب بنانے کے لیے ہنر مند افرادی قوت درکار ہوگی۔ تعلیم کے فروغ، فنی اور پیشہ ورانہ تربیت کے پروگراموں میں سرمایہ کاری اور خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت بلوچستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
اسی پس منظر میں حکومت بلوچستان نے بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (بی-ٹیوٹا) کے ذریعے اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں فنی تربیت اور بیرون ملک، خصوصاً خلیجی ممالک، میں روزگار کے مواقع فراہم کرنا شامل ہے۔ بلوچستان کے متعدد نوجوان سعودی عرب اور قطر میں ملازمتیں حاصل کر چکے ہیں، جو نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی عملی مثال ہے۔ اگر بی-ٹیوٹا کے اقدامات کو سی پیک فیز 2.0 سے ہم آہنگ کیا جائے تو روزگار کے مواقع اور غربت میں کمی کے حوالے سے نمایاں نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
چینی کہاوت ہے کہ “اگر آپ امیر بننا چاہتے ہیں تو پہلے سڑکیں بنائیں”۔ سڑکوں اور بہتر ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی تعمیر محروم علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہے۔ سڑکیں دیہی آبادی کو بڑے شہروں سے جوڑ کر ترقی کے نئے دروازے کھولتی ہیں۔ افسوس کہ بلوچستان میں ہر سال تقریباً چھ ہزار افراد ٹریفک حادثات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جبکہ دس ہزار سے زائد زخمی ہوتے ہیں۔ ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات کے مطابق پاکستان ایکسپریس وے ایک اہم اسٹریٹجک منصوبہ ہے جو چمن کو کراچی سے ملائے گا۔ مستقبل میں یہی شاہراہ افغانستان اور وسطی ایشیا تک سی پیک کی توسیع میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنا کر اسے ایک ترقی یافتہ عظیم شہری مرکز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جو روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرے گا۔
زرعی جدیدکاری سی پیک فیز 2.0 کا بنیادی ستون ہے۔ بلوچستان کو پاکستان کا “فروٹ باسکٹ” کہا جاتا ہے۔ صوبہ ملک کی تقریباً 90 فیصد چیری، انگور اور بادام کی پیداوار فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ خوبانی، انار اور آڑو کی تقریباً 60 فیصد جبکہ سیب کی 34 فیصد اور کھجور کی 70 فیصد پیداوار بلوچستان سے حاصل ہوتی ہے۔ زراعت اور مویشی بانی کے شعبے صوبے کی دو تہائی سے زائد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بلوچستان کی تقریباً 70 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے اور زراعت و مویشی بانی پر انحصار کرتی ہے۔ صوبے میں 11.77 ملین ایکڑ سے زائد زمین، جو رقبے کے لحاظ سے تقریباً سوئٹزرلینڈ کے برابر ہے، اب بھی غیر آباد ہے۔ اگر سی پیک فیز 2.0 کے تحت اس زمین کو قابلِ کاشت بنایا جائے تو نہ صرف مقامی آبادی کی معاشی حالت بہتر ہوگی بلکہ شدت پسندی کے رجحانات میں بھی کمی آئے گی۔ جب دیہی علاقوں میں خوشحالی آئے گی تو لوگ تصادم کے بجائے استحکام کو ترجیح دیں گے۔ فصلوں کے لیے مخصوص زونز، جدید آبپاشی نظام اور زرعی برآمدات میں اضافہ روزگار کے بے شمار مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
سی پیک فیز 2.0 میں موسمیاتی تبدیلی، سبز صنعت کاری اور سمندری معیشت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ آج موسمیاتی تبدیلی دہشت گردی سے بھی بڑا خطرہ محسوس ہوتی ہے۔ 2022 کے تباہ کن سیلابوں کے دوران بلوچستان ملک کے دیگر حصوں سے کٹ گیا تھا جس سے تجارت، نقل و حمل اور منڈیوں تک رسائی شدید متاثر ہوئی۔ ان سیلابوں سے صوبے کو تقریباً 5 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔ ماحولیات سے جڑے مسائل اور معاشی محرومی نوجوانوں میں مایوسی اور انتہا پسندی کو فروغ دے سکتے ہیں۔ اس لیے سی پیک فیز 2.0 کے تحت پائیدار روزگار اور معاشی مواقع نوجوانوں کو شدت پسند گروہوں سے دور رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ حکومت بلوچستان کا “گرین بلوچستان اقدام” بھی سی پیک فیز 2.0 کے ساتھ ہم آہنگ کیا جانا چاہیے تاکہ ماحولیاتی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کی معاونت سے حب کے ساحلی علاقے ڈمب میں ایک جدید آبی زراعت منصوبے کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس منصوبے میں 100 سے زائد جدید جھینگا فارمز قائم کیے جا رہے ہیں جن کی سالانہ پیداوار 1.2 ملین کلوگرام سے زائد متوقع ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گا بلکہ مقامی افراد کے لیے سینکڑوں روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گا۔ سی پیک فیز 2.0 کے تحت سمندری معیشت اور آبی زراعت کے شعبے بلوچستان کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
سی پیک فیز 2.0 میں سیاحت کے شعبے کی ترقی کے بھی روشن امکانات موجود ہیں۔ امریکہ سالانہ 214 ارب ڈالر جبکہ چین کا صوبہ سنکیانگ 2024 میں تقریباً 65 ارب ڈالر سیاحت سے کما چکا ہے۔ بلوچستان میں ساحلی، مذہبی، تہذیبی، ریلوے، صحرائی، پہاڑی اور ماحولیاتی سیاحت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ یہ شعبہ نہ صرف آمدنی کا بڑا ذریعہ بن سکتا ہے بلکہ پاکستان کی نرم قوت کو بھی فروغ دے سکتا ہے۔
تاہم بلوچستان میں جاری شورش سی پیک فیز 1.0 کے لیے ایک بڑا چیلنج رہی ہے اور فیز 2.0 کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے صرف عسکری اقدامات کافی نہیں بلکہ ایک متوازن حکمت عملی درکار ہے جس میں عسکری اور غیر عسکری دونوں پہلو شامل ہوں۔ نوجوانوں، خواتین اور مقامی آبادی کو ترقی کے عمل میں شامل کرنا اور جدیدیت کی طرف پیش رفت شدت پسندی میں کمی لا سکتی ہے۔ اگر سی پیک فیز 2.0 کو جامع، شمولیتی اور عوامی فلاح کے منصوبے کے طور پر نافذ کیا جائے تو یہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے مثبت اور دیرپا نتائج پیدا کرے گا۔




