چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین باٹھ نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاہےکہ
بلوچستان کے کشیدہ حالات میں شہید ہونے والے سیکورٹی فورسز اور عام شہداء کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں،
کسانوں کے مسائل اجاگر کرنے میں میڈیا نے ہمیشہ ہماری مدد کی، صوبے میں کوئی انڈسٹری اور بڑے پروجیکٹس نہیں جہاں لوگوں کو روزگار مل سکے، عوام کا واحد ذریعہ معاش زراعت ہے،صوبائی اور وفاقی حکومت نے کسانوں کو سولر فراہم کیے لیکن ان کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا، کسانوں کو 22 ہزار سولر دیئے گئے ہیں تاہم مزید سولر کی ضرورت ہے، اس وقت سب سے مہنگا آٹا بلوچستان میں مل رہا ہے،بلوچستان میں آٹے کا بحران جاری ہے،مریم نواز نے کہا کہ ہم کسانوں سے گندم نہیں خریدیں گے، گندم نہ خریدنے سے صرف کسانوں کے ساتھ ظلم نہیں ہوا بلکہ عام آدمی کو بھی مہنگا آٹا ملنا شروع ہوگیا، خالد حسین باٹھ
نے کہاکہ حیران ہوں حکومت بلوچستان اور چیف سیکرٹری دیگر صوبوں کی طرح پاسکو سے گندم کیوں نہیں خریدتے،اپنے کسان سے گندم نہ لینا اور بحران پیدا ہونے دینا افسوسناک ہے، چیف سیکرٹری آپ سے اگر صوبہ نہیں چلتا تو 3 سال پورے ہوگئے ہیں گھر واپس چلے جائیں ،پوری دنیا میں بلوچستان کے زیتون جیسا زیتون نہیں ہے،3 سے 4 ارب روپے کی دالیں اور سویا بین بیرون ملک سے منگوائے جا رہے ہیں،پاکستان زرعی ملک ہونے کے باوجود دیگر ممالک سے زرعی اجناس منگوا رہا ہے، انکاکہناتھاکہ امن و امان کی صورتحال خراب ہے مگر کیا کھاد روکنے سے یہ مسائل حل ہوجائیں گے، ہم نے وزیراعلیٰ پنجاب کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان اور کور کمانڈر بلوچستان سے اپیل ہے کہ زراعت پر ایمرجنسی ڈکلیئر کی جائے، بلوچستان ناقص پالیسیوں اور کرپشن کی نظر ہوتا صوبہ بن گیا ہے،پاکستان کے کسان کو کوئی سہولت نہیں مل رہی، ٹماٹر اور سیب کا سیزن آنے والا ہے مگر کسان اور عوام اس سے مستفید نہیں ہو رہے،ہم 25 ستمبر کو ملک گیر احتجاج کرنے جا رہے ہیں،احتجاج کا آغاز بلوچستان سے کرنے جارہے ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب کے استعفے کا مطالبہ کیا تو ہمارے کسانوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوگیا، بلوچستان کے کسان کو پانی کی ضرورت ہے، سندھ پانی نہیں دے رہا، وزیراعلیٰ بلوچستان اس حوالے سے بات کیوں نہیں کرتے، خالد حسین باٹھ
نے کہاکہ سندھ میں بھی پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، پانی کے حوالے سے سرفراز بگٹی ان سے بات کیوں نہیں کرتے؟ایک بیوروکریٹ لاکھوں روپے کما رہا ہے اور اس کے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہے ہیں، کسان مشکلات کا شکار ہوکر نان نفقہ کا محتاج ہوگیا ہے، مجھے بھی پتا ہے میری گرفتاری ہوگی، مجھے بھی گرفتار کیا جائے گا،مجھے اپنی فکر نہیں، مجھے کسانوں کی فکر ہے، ہم سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت سے اپنا پانی لے رہے ہیں، ہم اس وقت دنیا میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں،بلوچستان کے تمام کسانوں سے اپیل ہے کہ کسان اتحاد کا حصہ بنیں