اسلام آباد ہائی کورٹ نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی ختم کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

درخواست کی سماعت جسٹس انعام امین منہاس نے کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ پیش ہوئے جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت میں موجود تھے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کی جانب سے جاری کردہ خط بھی عدالت میں پڑھ کر سنایا۔

سماعت کے دوران جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ جب متعلقہ پولیس، ایف آئی اے اور دیگر ادارے درخواست گزار کو مطلوب قرار نہیں دے رہے تو پھر ان کا نام سفری پابندی کی فہرست سے کیوں نہیں نکالا گیا۔

ایف آئی اے حکام نے عدالت کو بتایا کہ سردار یار محمد رند کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں شامل نہیں بلکہ صرف پی این آئی (PNIL) فہرست میں موجود ہے، جہاں ان کا نام 28 مارچ کو شامل کیا گیا تھا۔

عدالت نے پوچھا کہ پی این آئی لسٹ میں نام کتنے عرصے کے لیے رکھا جا سکتا ہے۔ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ایک ماہ کے لیے نام شامل کیا جاتا ہے، جس میں مزید ایک ماہ کی توسیع لی جا سکتی ہے۔

اس پر جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق زیادہ سے زیادہ 60 روز تک نام رکھا جا سکتا ہے، جبکہ اس معاملے میں تقریباً پانچ ماہ گزر چکے ہیں۔ انہوں نے ایف آئی اے حکام سے استفسار کیا کہ اتنی طویل مدت تک نام کس قانونی اختیار کے تحت برقرار رکھا گیا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے مزید ریمارکس دیے کہ اس نوعیت کے متعدد مقدمات عدالت کے سامنے آ رہے ہیں اور اس حوالے سے عدالت پہلے بھی کئی مرتبہ ہدایات جاری کر چکی ہے، جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلے بھی موجود ہیں۔

تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے سردار یار محمد رند کا نام سفری پابندی کی فہرست سے نکالنے سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں