کوئٹہ: کوئٹہ انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے چیئرمین صالح آغا اور فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالواحد بڑیچ نے کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے موجودہ انتخابی عمل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مبینہ طور پر ’’الیکشن نہیں بلکہ سلیکشن‘‘ قرار دے دیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو کوئٹہ کی کاروباری برادری اور مختلف ایسوسی ایشنز کے ساتھ مل کر ہر آئینی و قانونی پلیٹ فارم پر آواز اٹھائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعتکاروں اور تاجروں کے آئینی و قانونی حقِ نمائندگی کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ چیمبر آف کامرس کے انتخابات میں گزشتہ کئی سالوں سے ایک ہی گروپ سے وابستہ افراد مختلف عہدوں پر آتے رہے ہیں، جبکہ ان کے بقول حقیقی صنعتکاروں اور تاجروں کی نمائندگی کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
شرکاء نے چیمبر کے صدر، سینئر نائب صدر، نائب صدر اور دیگر عہدیداروں کے انتخاب کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ چیمبر کے معاملات قانون، میرٹ اور شفاف طریقہ کار کے مطابق چلائے جائیں اور صنعتکاروں و تاجروں کو مؤثر نمائندگی دی جائے۔
پریس کانفرنس میں مبینہ ’’سلیکشن سسٹم‘‘ کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔ مقررین کے مطابق صنعتکاروں، تاجروں اور مختلف ایسوسی ایشنز کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرکے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائے گا، جبکہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ چیمبر آف کامرس کے انتخابی عمل کو شفاف اور غیرجانبدار بنایا جائے، تمام متعلقہ اداروں اور حقیقی نمائندوں کو انتخابی عمل میں شامل کیا جائے اور نمائندگی کو کسی ایک گروپ یا چند افراد تک محدود نہ رکھا جائے۔
مقررین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ چیمبر کے معاملات کا جائزہ لے کر شفاف انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا جائے۔