وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگیا، مذاکرات اسپیکر چیمبر کے کمیٹی روم میں جاری ہیں جہاں حکومت اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور باہمی معاملات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
حکومت کے مذاکراتی وفد کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کر رہے ہیں، جبکہ اجلاس میں وزیر داخلہ محسن نقوی، طلال چوہدری، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور رانا ثناء اللہ شریک ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے علامہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور سلمان اکرم راجہ مذاکراتی ٹیم میں شامل ہیں۔ مذاکرات کے دوران خیبر پختونخوا میں قومی سلامتی اور امن و امان کی صورتحال پر وزیر داخلہ کی جانب سے بریفنگ بھی دی گئی۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات کا دوسرا دور نمازِ جمعہ کے بعد ہوگا۔ اس سے قبل وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ہو رہے ہیں اور وہ اچھی امید کے ساتھ مذاکرات میں بیٹھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکالنا ملک کے لیے بہتر ہے۔ طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ بار بار اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کے بجائے سیاسی رویہ اپنانا ہوگا، مذاکرات میں ممکنہ حل کی جانب بڑھیں گے۔ وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم نے ہر جگہ مذاکرات کی دعوت دی، پارلیمانی جماعتوں سے مذاکرات میں کبھی جھجک نہیں رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں اور اس موقع کو ضائع نہ کیا جائے۔


