کوئٹہ: بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (BUITEMS) میں لاء اسٹوڈنٹس کا احتجاج جاری ہے۔ طلبہ نے پاکستان بار کونسل سے لاء اسکول کے الحاق اور recognition سے متعلق صورتحال پر وضاحت اور دستاویزی ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
طلبہ کی مذاکراتی کمیٹی نے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بار کونسل کی جانب سے بیوٹمز لاء اسکول کے الحاق کے حوالے سے موصول ہونے والے تمام سرکاری خطوط اور انسپکشن رپورٹس کی نقول فراہم کی جائیں۔
طلبہ نے وائس چانسلر بیوٹمز کے ساتھ فوری اور باضابطہ ملاقات کا مطالبہ بھی کیا ہے تاکہ الحاق کے معاملے پر براہِ راست بات چیت اور سوالات کے جوابات حاصل کیے جا سکیں۔
مذاکراتی کمیٹی نے یونیورسٹی انتظامیہ سے تحریری یقین دہانی کا مطالبہ کیا ہے جس میں الحاق کی موجودہ صورتحال، طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کے لیے اقدامات اور آئندہ کے لائحہ عمل کو واضح کیا جائے۔
طلبہ نے پاکستان بار کونسل کے مجاز نمائندے سے براہِ راست ملاقات یا رابطے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ الحاق کے معاملے کی اصل صورتحال شفاف انداز میں سامنے آنی چاہیے۔ اس کے ساتھ الحاق کے باقی مراحل کی تکمیل کے لیے واضح تحریری ٹائم لائن اور روڈ میپ بھی طلب کیا گیا ہے۔
مذاکراتی کمیٹی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پاکستان بار کونسل اور بلوچستان بار کونسل کے کردار اور ڈگری و الحاق سے متعلق قانونی پوزیشن واضح کی جائے تاکہ طلبہ کے مستقبل میں وکالت کے لائسنس سے متعلق مسائل پیدا نہ ہوں۔
طلبہ نے احتجاج میں حصہ لینے والے کسی طالب علم کے خلاف انتقامی، تادیبی یا انتظامی کارروائی نہ کرنے کی تحریری یقین دہانی اور الحاق سے متعلق تمام نئی پیش رفت سے مذاکراتی کمیٹی کو فوری طور پر آگاہ کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
پاکستان بار کونسل کے قواعد کے مطابق کسی یونیورسٹی یا ڈگری دینے والے ادارے کے لیے قانون کا پروگرام شروع کرنے اور طلبہ کو داخلہ دینے سے قبل پاکستان بار کونسل کی recognition سے متعلق شرائط موجود ہیں۔
بیوٹمز یونیورسٹی میں لاء اسٹوڈنٹس کا احتجاج جاری، الحاق سے متعلق مطالبات پیش




