قومی اسمبلی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق صدر مملکت کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کرلی۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین نے احتجاج کیا، تاہم حکومتی قرارداد ایوان سے منظور ہوگئی۔ اجلاس کے اختتام پر قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہونے والے اجلاس کے دوران وزیرِ مملکت برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے وقفہ سوالات معطل کرنے کی تحریک پیش کی، جس کے بعد انہوں نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے صدارتی فیصلے کی توثیق کے لیے قرارداد ایوان میں پیش کی۔
اعظم نذیر تارڑ: ایمرجنسی کا فیصلہ مکمل غور و خوض کے بعد کیا گیا وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی آئینی وجوہات بیان کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، داخلی بے چینی اور سرحد پار دراندازی کے خدشات کے باعث یہ قدم اٹھانا ضروری ہوگیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے تقریباً ڈھائی گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں صورت حال کا جائزہ لیا، جس کے بعد وزیراعظم کو ایمرجنسی نافذ کرنے کی سفارش کی گئی۔ اس کے نتیجے میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت فیصلہ کیا گیا۔
وفاقی وزیر قانون کے مطابق خیبر پختونخوا میں 2021 سے 2024 کے دوران دہشت گردی کے 2 ہزار 911 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ 15 اکتوبر 2025 سے 9 اکتوبر 2026 تک ان واقعات کی تعداد بڑھ کر 3 ہزار 787 ہوگئی۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون ضروری تھا۔ انہوں نے مسلح افواج، پولیس اور شہریوں کی قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت امن و امان کی صورت حال پر قابو پانے میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکی۔
انہوں نے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ صوبے میں امن و امان کے مسائل حل کرنے کے بجائے سیاسی سرگرمیوں، دوسرے شہروں کے دوروں اور اسلام آباد کی جانب پیش قدمی سے متعلق بیانات پر توجہ دی گئی۔
وزیر قانون نے مزید بتایا کہ وفاقی حکومت نے طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، رانا ثنا اللہ اور امیر مقام پر مشتمل ٹیم نے دو روز تک اسپیکر چیمبر میں اپوزیشن اور دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے مختلف تجاویز پر بات چیت کی۔
تاہم، ان کے دعوے کے مطابق انسداد دہشت گردی کے معاملے پر ہونے والے مذاکرات میں اپوزیشن کی توجہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور انہیں سہولتیں فراہم کرنے پر رہی۔ انہوں نے کہا کہ رہائی کا معاملہ عدالتی نظام یا آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت صدر مملکت کے اختیار سے متعلق ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے ماضی کے سیاسی مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2023 میں انتخابات اور اسمبلیوں کی تحلیل کے معاملے پر بھی اتفاق رائے پیدا ہوا تھا، تاہم بعد میں اس پر عمل درآمد نہ ہوسکا اور سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد 10 روز کے اندر پارلیمنٹ سے منظوری لینا آئینی تقاضا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سیاسی جماعتوں اور پوری قوم کو سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔
اتحادی جماعتوں کی حمایت، سینیٹ اور مشترکہ اجلاس بھی اہمخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق حکومتی حکمت عملی کے تحت سینیٹ کا اجلاس بھی شام چار بجے طلب کیا گیا، جس میں اس معاملے پر الگ قرارداد پیش کیے جانے کا اعلان کیا گیا۔
دوسری جانب آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج سے متعلق صدارتی فیصلے کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 15 اکتوبر، بروز جمعرات، صبح ساڑھے 11 بجے منعقد ہونے کا اعلان کیا گیا۔ اس اجلاس میں حکومتی حکمت عملی کے مطابق اتحادی جماعتوں کی حمایت سے متعلقہ صدارتی فرمان کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
حکومتی اتحادیوں نے اس معاملے پر وفاقی حکومت کی حمایت کا یقین دلایا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی صدارت میں ہوا، جس میں خیبر پختونخوا کی صورت حال اور وفاقی حکومت کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں گورنر راج سے متعلق حکومتی قرارداد کی ووٹنگ میں حصہ لے گی اور مختلف بلوں کی منظوری کے معاملے پر بھی حکومت کا ساتھ دے گی۔
اسی طرح متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ایک اعلیٰ سطح وفد نے خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ وفد نے خیبر پختونخوا کے معاملے پر وفاقی حکومت کی حمایت کا یقین دلایا۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صوبے کے عوام کے مفاد اور سیکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے مشکل فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق حکومت نے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی، لیکن مثبت پیش رفت نہیں ہوسکی، جبکہ دہشت گردی کے واقعات میں عام شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔
پشاور میں معمولات زندگی کی بحالی، سیکیورٹی انتظامات برقرار
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں معمولات زندگی بحال ہونے لگے ہیں۔ مختلف شاہراہوں پر لگائے گئے کنٹینرز ہٹائے جانے کے بعد ٹریفک کی آمدورفت میں بہتری آئی ہے، جبکہ تعلیمی ادارے دوبارہ کھل گئے ہیں۔
بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) سروس بھی بحال ہوچکی ہے اور شہر میں آمدورفت بتدریج معمول پر آرہی ہے۔ تاہم حساس مقامات، خصوصاً ریڈ زون میں سیکیورٹی کے انتظامات بدستور برقرار ہیں۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق آئینی و پارلیمانی کارروائیوں کے آئندہ مراحل اہمیت اختیار کرگئے ہیں، جہاں وفاقی حکومت اور اتحادی جماعتوں کے فیصلوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کا ردعمل بھی سیاسی صورت حال پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔



