خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی مسترد، مولانا فضل الرحمان کا عوامی، پارلیمانی اور عدالتی محاذ پر جانے کا اعلان

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے حکومتی فیصلے کے خلاف عوامی، پارلیمانی اور عدالتی محاذ پر جدوجہد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

اسلام آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ عوام کے حقوق پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت اس اقدام کو تسلیم نہیں کرتی اور اس کے خلاف ہر متعلقہ فورم پر اپنا کردار ادا کرے گی۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی عوام سے براہِ راست رابطہ کرے گی، پارلیمنٹ میں اپنا مؤقف پیش کرے گی اور عدلیہ سے بھی رجوع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئین، جمہوریت اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے سیاسی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے درمیان مذاکرات میں تعطل دور کرنے کے لیے انہوں نے ثالثی کی کوششیں کی تھیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کرنے پر آمادہ تھی، تاہم اس کے لیے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور ان کے علاج سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی یقین دہانی درکار تھی۔

جے یو آئی کے سربراہ نے بتایا کہ انہوں نے پی ٹی آئی کی قیادت سے رابطہ کرکے معاملات طے کرنے کی کوشش کی اور وزیراعظم ہاؤس جاکر بھی اپنا مؤقف پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر بٹھا کر سیاسی کشیدگی کم کرنا چاہتے تھے، لیکن اسی دوران وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق فیصلہ سامنے آگیا۔

مولانا فضل الرحمان نے اس اقدام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر بنیادی مسئلہ دہشت گردی ہے تو اس کے حل کے لیے قومی سطح پر مشاورت اور تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے بجائے سیاسی مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جے یو آئی اس فیصلے کے خلاف اپنی سیاسی اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی اور عوامی رابطوں کے ذریعے اپنا مؤقف سامنے لائے گی۔

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کی سیاسی صورتحال مزید اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ وفاقی حکومت نے اپنے اقدام کی وجہ امن و امان اور دہشت گردی سے متعلق خدشات کو قرار دیا ہے، جبکہ مولانا فضل الرحمان نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے سیاسی اور آئینی محاذ پر چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں