اسلام آباد: پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مختلف ادوار کے دوران وفاقی حکومتوں نے صوبوں میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرکے منتخب صوبائی حکومتوں کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لیے۔ ان اقدامات کے پیچھے سیاسی اختلافات، امن و امان کی صورتحال اور آئینی نظام میں ناکامی جیسے اسباب بیان کیے جاتے رہے ہیں۔
11 اکتوبر 2026 کو خیبرپختونخوا میں بھی وفاقی کابینہ کی سفارش اور صدرِ مملکت کی منظوری کے بعد آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس پیش رفت نے پاکستان میں گورنر راج کی تاریخ کو ایک بار پھر موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔
پنجاب میں گورنر راج
پاکستان میں پہلی مرتبہ جنوری 1949 میں پنجاب میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔ اس وقت وزیراعلیٰ افتخار حسین ممدوٹ کی حکومت ختم کرکے صوبے کے انتظامی اختیارات گورنر کے سپرد کردیے گئے۔ یہ اقدام وفاقی قیادت اور صوبائی حکومت کے درمیان اختلافات کے پس منظر میں سامنے آیا۔ گورنر راج اپریل 1951 میں ختم ہوا۔
دوسری مرتبہ اکتوبر 1999 میں جنرل پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پنجاب میں گورنر راج نافذ ہوا، جس کے نتیجے میں وزیراعلیٰ شہباز شریف کی حکومت ختم ہوگئی۔ یہ انتظام نومبر 2002 تک جاری رہا۔
تیسری مرتبہ 25 فروری 2009 کو پنجاب میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔ اس وقت سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد شہباز شریف وزارتِ اعلیٰ کے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکے تھے۔ صدر آصف علی زرداری نے صوبے میں گورنر راج نافذ کیا، تاہم پنجاب اسمبلی کو معطل نہیں کیا گیا۔ مارچ 2009 میں یہ انتظام ختم کردیا گیا۔
سندھ میں گورنر راج
سندھ میں بھی مختلف ادوار کے دوران گورنر راج نافذ کیا گیا۔ دسمبر 1951 میں وزیراعلیٰ ایوب کھوڑو کی حکومت برطرف کرکے صوبے کا انتظام گورنر کے سپرد کردیا گیا۔ یہ انتظام مئی 1953 تک جاری رہا۔
جون 1988 میں صدر جنرل ضیاء الحق کی جانب سے وفاقی حکومت اور اسمبلیوں کی برطرفی کے بعد سندھ میں بھی صوبائی حکومت کا نظام تبدیل ہوا اور گورنر راج نافذ کیا گیا۔
اکتوبر 1998 میں وزیراعظم نواز شریف کے دور میں سندھ میں ایک مرتبہ پھر گورنر راج نافذ کیا گیا۔ اس وقت صوبے میں امن و امان، سیاسی اختلافات اور وفاقی حکومت و متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان کشیدگی اہم معاملات تھے۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج
خیبرپختونخوا، جسے ماضی میں صوبہ سرحد کہا جاتا تھا، میں بھی مختلف ادوار میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔
فروری 1975 میں وزیراعلیٰ عنایت اللہ خان گنڈاپور کی حکومت کے اختیارات ختم کرکے صوبے کا انتظام گورنر کے سپرد کیا گیا۔ یہ انتظام 3 مئی 1975 تک جاری رہا۔
فروری 1994 میں وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے دور میں وزیراعلیٰ صابر شاہ کی حکومت معطل کرکے گورنر راج نافذ کیا گیا۔ اپریل 1994 میں یہ انتظام ختم ہوا اور آفتاب احمد خان شیرپاؤ وزیراعلیٰ بنے۔
اکتوبر 1999 میں فوجی اقتدار کے قیام کے بعد خیبرپختونخوا سمیت دیگر صوبوں کی منتخب حکومتیں بھی ختم کردی گئیں۔ صوبے میں گورنر راج نومبر 2002 تک جاری رہا۔
11 اکتوبر 2026 کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا اعلان بھی اسی تاریخی پس منظر میں ایک نئی پیش رفت ہے۔
بلوچستان میں گورنر راج
بلوچستان میں فروری 1973 میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں وزیراعلیٰ سردار عطاء اللہ مینگل کی حکومت برطرف کردی گئی اور صوبے میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔ اس اقدام کے پس منظر میں وفاقی حکومت اور بلوچستان کی صوبائی قیادت کے درمیان شدید اختلافات تھے۔ اپریل 1973 میں گورنر راج ختم ہوا۔
دسمبر 1975 میں بلوچستان میں دوبارہ گورنر راج نافذ کیا گیا، جو دسمبر 1976 تک جاری رہا۔
اکتوبر 1999 میں جنرل پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بلوچستان میں بھی صوبائی حکومت کا خاتمہ ہوا اور گورنر راج نافذ کیا گیا، جو دسمبر 2002 تک جاری رہا۔
جنوری 2013 میں کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے خلاف بم دھماکوں اور بڑے پیمانے پر احتجاج کے بعد وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی حکومت نے بلوچستان میں گورنر راج نافذ کیا۔ اس وقت وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کی حکومت ختم کرکے صوبے کا انتظام گورنر کے سپرد کردیا گیا تھا۔
گورنر راج اور ایمرجنسی میں کیا فرق ہے؟
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 کے تحت جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسے سنگین اندرونی حالات میں ایمرجنسی نافذ کی جاسکتی ہے جن سے نمٹنا صوبائی حکومت کے اختیار سے باہر ہو۔ اس کے تحت وفاق کو صوبے کے معاملات میں وسیع آئینی اختیارات حاصل ہوسکتے ہیں۔
دوسری جانب آرٹیکل 234 اس وقت لاگو ہوتا ہے جب صدرِ مملکت کو یہ اطمینان ہو کہ صوبے کا نظام آئین کے مطابق نہیں چلایا جاسکتا۔ اس صورت میں صوبائی حکومت کے بعض یا تمام انتظامی اختیارات صدر یا گورنر کے ذریعے استعمال کیے جاسکتے ہیں، جبکہ صوبائی اسمبلی کے اختیارات سے متعلق بھی آئین میں طریقۂ کار موجود ہے۔
دونوں اقدامات کے لیے آئینی شرائط اور منظوری کے الگ تقاضے ہیں، اس لیے ایمرجنسی اور گورنر راج کو ایک ہی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اہم پہلو
پاکستان میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے مختلف واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی کشمکش کئی دہائیوں سے ملکی سیاست کا حصہ رہی ہے۔ تاہم ہر واقعے کے سیاسی حالات، آئینی بنیاد اور نتائج مختلف رہے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں 11 اکتوبر 2026 کو ہونے والا فیصلہ بھی اسی تناظر میں اہمیت رکھتا ہے، جس کے اثرات صوبائی انتظام، سیاسی صورتحال اور وفاق و صوبے کے تعلقات پر مرتب ہوسکتے ہیں۔



