اسلام آباد: خیبرپختونخوا کی سکیورٹی اور سیاسی صورتحال کے پیشِ نظر صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے یا گورنر راج کے امکان پر غور کے لیے وزیراعظم ہاؤس میں کل، 10 اکتوبر کو، اعلیٰ سطح کا اہم اجلاس طلب کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور اعلیٰ عسکری حکام کی شرکت متوقع ہے۔ اجلاس میں قومی سلامتی کے اداروں کی رپورٹس کا جائزہ لینے کے ساتھ صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور آئندہ حکمتِ عملی پر غور کیا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا کے سابق فاٹا سمیت 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ اس کے علاوہ صوبے میں عوام کے تحفظ اور امن و امان کی بہتری کے لیے بعض اہم اختیارات وفاقی حکومت کے استعمال میں دینے کی تجویز پر بھی مشاورت متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 232، 233 اور 234 کے تحت دستیاب اختیارات اور قانونی تقاضوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ ان آئینی شقوں کے تحت ممکنہ اقدامات پر غور کے بعد آئندہ لائحہ عمل طے کیے جانے کا امکان ہے۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج سے متعلق بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان سکیورٹی معاملات اور سیاسی صورتحال پر اختلافات موجود ہیں۔ اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات میں بھی صوبے کی امن و امان کی صورتحال اور سیاسی معاملات پر تبادلۂ خیال کیا گیا تھا۔
دوسری جانب، یکم اکتوبر کو سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے فوری طور پر ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کے بجائے سیاسی صورتحال میں بہتری کے لیے مزید وقت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
تاہم، تاحال ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کا کوئی حتمی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔ وزیراعظم ہاؤس میں اجلاس اور مجوزہ اقدامات سے متعلق تفصیلات ذرائع کی فراہم کردہ اطلاعات پر مبنی ہیں۔




