کوئٹہ( اولس نیوز ) بلوچستان ہائی کورٹ نے سرکاری اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے کوئٹہ ضلع میں تبادلوں کے معاملے پر بڑا حکم جاری کرتے ہوئے دیگر اضلاع سے کوئٹہ تبادلوں پر عائد پابندی پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کردی۔
عدالت نے قرار دیا کہ مخصوص علاقوں کی بنیاد پر منظور شدہ آسامیوں پر تعینات ملازمین کے کوئٹہ منتقل ہونے سے ان کے اصل علاقوں میں اساتذہ اور عملے کی کمی پیدا ہوتی ہے، جس سے تقرریوں کا بنیادی مقصد متاثر ہوتا ہے۔۔۔
چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل بینچ نے حکم دیا کہ اصل جائے تعیناتی سے کسی بھی دوسرے اسٹیشن یا ضلع، بالخصوص کوئٹہ، منتقل کیے گئے تدریسی و غیر تدریسی عملے کے تمام تبادلے کے احکامات واپس لے کر انہیں اصل جائے تعیناتی پر بحال کیا جائے۔۔ تاہم عدالت کے انفرادی احکامات اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔عدالت نے تمام متعلقہ ملازمین کو اپنی اصل جائے تعیناتی پر جوائننگ دینے اور محکمہ تعلیم کو مکمل تعمیلی رپورٹ، انفرادی جوائننگ رپورٹس سمیت، آئندہ سماعت پر پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔عدالت نے اعلیٰ سیکریٹریٹ سطح کی کمیٹی تشکیل دے کر حکم پر فوری عملدرآمد کی بھی ہدایت کی ہے۔ کیس کی آئندہ سماعت 3 نومبر 2026 کو ہوگی۔
بلوچستان ہائی کورٹ کا بڑا حکم، کوئٹہ تبادلوں پر مکمل پابندی




