اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کے بعد اپوزیشن لیڈر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے حکومت سے بات چیت کے حوالے سے اپنی اہم شرط سامنے رکھ دی۔
ذرائع کے مطابق محمود اچکزئی نے اپوزیشن رہنماؤں کو پیغام دیا ہے کہ اگر حکومت مذاکرات کے لیے رابطہ کرے تو اسے مثبت جواب دیا جائے، تاہم مذاکرات کے لیے پہلی شرط بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات ہونی چاہیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محمود اچکزئی نے کہا کہ عمران خان کی بہنوں کی رہائی سے حکومت مذاکراتی عمل میں مثبت پیش رفت کا آغاز کرسکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر عمران خان سے ملاقات نہیں ہوتی تو وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات بے معنی ہوگی۔
محمود اچکزئی نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ دی گئی تو وزیراعظم سے ملاقات سے انکار پر غور کیا جاسکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات اور سیاسی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے دوران سامنے آئی ہے۔ اس سے قبل بھی اپوزیشن کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کو مذاکراتی عمل میں اہم معاملہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔
تاہم محمود اچکزئی کی جانب سے سامنے آنے والی شرائط اور ذرائع کے دعوؤں سے متعلق حتمی پیش رفت کا انحصار حکومت اور اپوزیشن کے آئندہ رابطوں پر ہوگا۔



