بلوچستان کے 12 سینیٹرز کی مدت مارچ 2027 میں مکمل ہوگی، کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے

کوئٹہ: بلوچستان سے سینیٹ کے 12 ارکان کی موجودہ مدت مارچ 2027 میں مکمل ہونے والی ہے۔ سینیٹ آف پاکستان کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق ان سینیٹرز میں عبدالقدوس، عبدالشکور خان، اسد قاسم، دانش کمار، کامران مرتضیٰ، منظور احمد کاکڑ، میر دوستین خان دومکی، محمد عبدالقادر، نسیمہ احسان، سعید احمد ہاشمی، ثمینہ ممتاز زہری اور عمر فاروق شامل ہیں۔
ان میں عبدالقدوس کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی، عبدالشکور خان اور کامران مرتضیٰ کا جمعیت علمائے اسلام، دانش کمار، منظور احمد کاکڑ اور ثمینہ ممتاز زہری کا بلوچستان عوامی پارٹی، میر دوستین خان دومکی کا مسلم لیگ ن جبکہ ارباب عمر فاروق کا عوامی نیشنل پارٹی سے ہے۔ اسد قاسم، محمد عبدالقادر اور نسیمہ احسان سینیٹ کے موجودہ سرکاری ریکارڈ میں آزاد حیثیت سے درج ہیں۔
بلوچستان کے سیاسی و عوامی حلقوں میں ان سینیٹرز کی کارکردگی، خصوصاً صوبے کے بنیادی مسائل کو ایوانِ بالا میں مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں
۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ بلوچستان کو درپیش مسائل، جن میں لاپتہ افراد، امن و امان، پسماندگی، پانی، بجلی، گیس، روزگار، معدنی وسائل اور صوبے کے حقوق جیسے معاملات شامل ہیں، پر سینیٹ میں زیادہ مؤثر اور مسلسل آواز اٹھانے کی ضرورت تھی۔
تاہم سینیٹ کے سرکاری ریکارڈ سے یہ کہنا کہ کسی رکن نے بالکل بلوچستان کے مسائل پر بات نہیں کی، جامع پارلیمانی ریکارڈ کے تفصیلی جائزے کے بغیر حتمی طور پر درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر عمر فاروق اس وقت پٹرولیم کمیٹی کے چیئرمین سمیت متعدد قائمہ کمیٹیوں کے رکن ہیں، جبکہ عبدالقدوس کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقوں کے رکن بھی ہیں۔
حاضری کے ریکارڈ میں بھی مختلف سیشنز کے دوران ارکان کی شرکت میں فرق نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر سینیٹ کے 10 اکتوبر 2025 کے سرکاری ریکارڈ میں عبدالقدوس، عبدالشکور، دنیش کمار، کامران مرتضیٰ، محمد عبدالقادر، اسد قاسم، سعید احمد ہاشمی اور ثمینہ ممتاز زہری سمیت متعدد ارکان غیر حاضر درج ہوئے، جبکہ منظور احمد کاکڑ اور نسیمہ احسان حاضر تھے۔ 30 ستمبر 2025 کے ریکارڈ میں صورتِ حال مختلف تھی اور کئی مذکورہ ارکان حاضر تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی رکن کی مجموعی کارکردگی جانچنے کے لیے صرف ایک اجلاس یا حاضری کے ایک ریکارڈ کو معیار بنانا کافی نہیں۔
نسیمہ احسان 2021 سے 2027 کی مدت کے لیے آزاد سینیٹر کے طور پر درج ہیں۔ ان کا سیاسی پس منظر بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) سے بھی وابستہ رہا ہے؛ سینیٹ کے سابقہ ریکارڈ میں انہیں 2012 سے 2018 تک BNP-A کی سینیٹر دکھایا گیا ہے۔
اسی طرح اسد قاسم 2021 سے 2027 کی مدت کے لیے آزاد سینیٹر ہیں اور سینیٹ کے ریکارڈ میں انہیں سابق سینیٹر محمد قاسم کے عوض رکن بننے والا رکن ظاہر کیا گیا ہے۔ قاسم رونجھو کا تعلق BNP (مینگل) سے تھا اور اکتوبر 2024 میں 26ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر ان کے پارٹی مؤقف سے اختلاف اور استعفے کا واقعہ بھی ملکی سیاست میں زیر بحث رہا۔
دنیش کمار بھی بلوچستان کی سیاست میں مختلف مواقع پر خبروں کا موضوع رہے ہیں، جبکہ ان سے متعلق BMW گاڑی کے معاملے کو بھی میڈیا میں زیر بحث لایا گیا۔ تاہم کسی رکن کی مجموعی پارلیمانی کارکردگی کا حتمی تعین صرف میڈیا میں آنے والے تنازعات سے نہیں بلکہ قانون سازی، تقاریر، سوالات، قراردادوں، کمیٹیوں میں شرکت، حاضری اور بلوچستان سے متعلق اٹھائے گئے معاملات کے جامع ریکارڈ سے ہونا چاہیے۔
عوامی سوال: بلوچستان کی نمائندگی کتنی مؤثر رہی؟
مارچ 2027 میں ان 12 سینیٹرز کی مدت مکمل ہونے سے قبل بلوچستان کے عوام کے لیے یہ سوال اہم بنتا جا رہا ہے کہ ان کے منتخب نمائندوں نے گزشتہ چھ سال کے دوران صوبے کے مسائل کو سینیٹ میں کس حد تک مؤثر انداز میں پیش کیا۔
سیاسی حلقوں کے مطابق آئندہ سینیٹ انتخابات سے قبل ان ارکان کی حاضری، تقاریر، سوالات، قراردادوں، قانون سازی، قائمہ کمیٹیوں میں کردار اور بلوچستان سے متعلق پارلیمانی کارروائی کا باقاعدہ جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ عوام کے سامنے ہر رکن کی کارکردگی کا واضح اور دستاویزی تصویر پیش کی جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں