ایمرجنسی کی کوئی مدت نہیں ہوتی جبکہ گورنرراج زیادہ سے زیادہ 6 ماہ کیلئے لگ سکتا ہے، جب تک حالات ٹھیک نہیں ہوں گے ایمرجنسی چلتی رہے گی۔ ماہر قانون جسٹس (ر) شائق عثمانی

اسلام آباد: ماہر قانون جسٹس (ر) شائق عثمانی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں موجودہ صورتحال کے پیش نظر ایمرجنسی کا آپشن زیرِ غور آ سکتا ہے، تاہم اسے نافذ کرنا آسان نہیں۔
جسٹس (ر) شائق عثمانی کے مطابق گورنر راج محدود مدت کے لیے نافذ کیا جا سکتا ہے، جبکہ ایمرجنسی کے حوالے سے آئینی طریقہ کار مختلف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبے میں ایمرجنسی نافذ کی جاتی ہے تو اس کے لیے آئینی تقاضے پورے کرنا ضروری ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے صدرِ مملکت کا اعلان اور آئینی طریقہ کار ضروری ہے۔ اگر متعلقہ قرارداد صوبائی اسمبلی سے منظور نہ ہو تو معاملہ مقررہ مدت کے اندر پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔
ماہر قانون نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا یا بلوچستان میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا فیصلہ سیاسی اور آئینی طور پر حساس معاملہ ہے، اس لیے اسے نافذ کرنا محض انتظامی فیصلے سے ممکن نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں