صدر ٹرمپ نے ایران کی 5 سال کے لیے یورینیم افزودگی معطل کرنے کی پیشکش مسترد کی

واشنگٹن ( اولس نیوز ) نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے 5 سال کے لیے یورینیم افزودگی معطل کرنے کی پیشکش مسترد کر دی تھی۔

امریکی اخبار کے مطابق ایران نے امریکا کو مذاکرات میں یورینیم افزودگی 5 سال کے لیے معطل کرنے کی پیشکش کی تھی، لیکن صدر نے یہ پیش کش مسترد کر دی، اور ایران سے 20 سال تک یورینیم افزودگی روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے ایران سے افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر نکالنے کا مطالبہ بھی کیا، جب کہ ایرانی مذاکراتی وفد کا اصرار تھا کہ افزودہ یورینیم ایران کے اندر ہی رہے گا۔

رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور منعقد کرنے پر بات چیت جاری ہے، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس بارے میں کوئی منصوبہ ابھی طے نہیں ہوا ہے۔

 وائٹ ہاؤس نے ایران کی اُس تجویز کو مسترد کر دیا ہے جس میں ایران نے یورینیم کی افزودگی پانچ سال کے لیے معطل کرنے کی پیشکش کی تھی۔ امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن نے مطالبہ کیا کہ ایران اپنی جوہری سرگرمیاں کم از کم 20 سال کے لیے روک دے۔ یہ بات تہران اور واشنگٹن دونوں کے حکام کے حوالے سے بتائی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی تجویز اُن کئی تجاویز میں شامل تھی جو دونوں فریقوں نے پاکستان میں ہونے والے امن مذاکرات کے دوران پیش کی تھیں، تاہم ہفتے کے آخر میں یہ مذاکرات ناکام ہو گئے اور کوئی بھی تجویز قبول نہ کی جا سکی۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور جے ڈی وینس کے مطابق اگرچہ ابتدائی مذاکرات میں طویل المدتی معاہدہ نہیں ہو سکا، لیکن دوسری سطح کے مذاکرات کا امکان اب بھی موجود ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں