بلوچستان ہائیکورٹ: شاہد رند کی تقرری کیس کی سماعت، عدم حاضری پر عدالت برہم

کوئٹہ (اولس نیوز ) بلوچستان ہائیکورٹ میں شاہد رند کی بطور میڈیا اسسٹنٹ تقرری کو چیلنج کرنے کے کیس کی سماعت ، شاہد رند کی عدم حاضری پر کورٹ برہم
کیا خیال ہے ایس ایچ او سول لائن کو بھیجتے ہیں وہ خود شاہد رند کو لے آئے ، چیف جسٹس کامران ملاخیل کی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے مکالمہ
تفصیلات کے مطابق شاہد رند کی بطور اسسٹنٹ میڈیا کنسلٹنٹ تقرری کو آئینی درخواست کے ذریعے ایڈووکیٹ صادق خلجی نے چیلنج کیا ہے جس کی آج بلوچستان ہائی کورٹ کے کورٹ ون میں چیف جسٹس کامران خان ملاخیل اور جسٹس نجم الدین مینگل پر مشتمل ڈبل بینچ میں سماعت ہوئی۔ جہاں ہائیکورٹ نے شاہد حمید رند کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا کہاتھا جس پر شاہد رند پیش نہ ہوئے جس پر چیف جسٹس کامران خان ملاخیل برہم ہوگئے اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے کہا کہ کیا خیال ہے ایس ایچ او سول لائن کو کہیں وہ خود شاہد رند کو کورٹ لیکر آئے جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شئے حق نے کہا کہ شاہد رند بیمار ہیں ۔ اس دوران چیف جسٹس کامران ملاخیل پٹیشنر اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے مابین کیس سے متعلق مکالمہ بھی ہوا ۔ پٹینشنر نے کہا کہ جب ہم نے ترجمان کے طور پر شاہد رند کی تقرری چیلنج کی تو حکومت نے نام بدل کر انہیں اسسٹنٹ میڈیا کنسلٹنٹ رکھا۔ یہ غیر آئینی ہے۔
بعد ازاں چیف جسٹس نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو حکم دیا کہ شاہد رند کو آئندہ سماعت پر کورٹ پیش کیا جائے۔ سماعت ماہ مئی کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں