چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور صوبے کی مجموعی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے صوبے میں سیاسی خودکش حملہ کیا ہے اور موجودہ حالات کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاقی حکومت نے حتی الامکان کوشش کی کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی نوبت نہ آئے۔ ان کے مطابق اس آئینی اقدام سے پہلے اپوزیشن سے رابطے کیے گئے اور صوبے کے معاملے کو سیاسی طور پر حل کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ خیبر پختونخوا میں پیدا ہونے والی صورت حال کے لیے وزیراعلیٰ ذمہ دار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی تشکیل دینے کے لیے سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر مشترکہ اقدامات کرنا ضروری ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ دہشت گردی اور قومی سلامتی جیسے اہم معاملات کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون سے گریز کرنا سیاسی خودکشی کے مترادف ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کی کوئی ٹھوس وجہ پیش نہیں کرسکی۔
بلاول بھٹو کی اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج بھی سیاسی بات چیت کے لیے تیار ہیں اور حکومت کی جانب سے مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کو غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رکھا جاسکتا، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر ایسا حل تلاش کرنا چاہیے جس سے صوبے میں حالات بہتر ہوں اور ایمرجنسی کی ضرورت باقی نہ رہے۔انہوں نے افغانستان کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہاں پیدا ہونے والے حالات میں بھارت کا کردار ہے۔ بلاول بھٹو نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ صیہونی قوتیں پاکستان کی اندرونی سیاست میں مداخلت کررہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی، چاہے اسے تنہا ہی کیوں نہ مقابلہ کرنا پڑے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان صرف حکومت کا نہیں بلکہ اپوزیشن اور پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کا ملک ہے، اس لیے قومی معاملات پر سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
حالات بہتر ہوئے تو ایمرجنسی ختم کرنے کی سفارش کروں گا، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ بعض معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے اور حکومت بھی نہیں چاہے گی کہ تمام محاذ بیک وقت کھولے جائیں۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر سیاسی حالات بہتر ہوتے ہیں تو وہ خود وزیراعظم سے ایمرجنسی ختم کرنے کی سفارش کریں گے۔ ان کے مطابق سیاسی اتفاق رائے کے ذریعے ایسے حالات پیدا کیے جاسکتے ہیں جن میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی برقرار رکھنے کی ضرورت نہ رہے۔
انہوں نے ایک بار پھر اپوزیشن کو بات چیت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اختلافات کے باوجود قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی اور صوبے کے مستقبل کے لیے مشترکہ فیصلے کرنا ہوں گے۔
یوں بلاول بھٹو زرداری کے خطاب میں ایک جانب پی ٹی آئی پر سخت تنقید سامنے آئی، تو دوسری جانب مذاکرات کے ذریعے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے خاتمے کی گنجائش بھی ظاہر کی گئی۔



