چیف کمشنر اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کی جانب سے عمران احمد خان نیازی کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے اٹھارہ اگست کے حکم کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کردی گئی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے بارہ مارچ دو ہزار چھبیس کے حکم کے خلاف دائر فوجداری پی ایل اے نمبر 1370/2026 کی سماعت کے دوران عمران خان کو علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا عبوری حکم جاری کیا، حالانکہ درخواست گزار کو سماعت کا باقاعدہ نوٹس نہیں دیا گیا تھا۔
چیف کمشنر آئی سی ٹی کی جانب سے دائر نظرثانی درخواست میں کہا گیا ہے کہ سزا یافتہ قیدیوں کو جیل سے باہر علاج کے لیے منتقل کرنے کا طریقہ پاکستان پریزن رولز 1978 میں واضح طور پر موجود ہے۔ درخواست کے مطابق رول 197 کے تحت کسی قیدی کو دوسرے شہر کے ہسپتال منتقل کرنے کے لیے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کے احکامات پیشگی حاصل کرنا ضروری ہیں۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا اٹھارہ اگست کا حکم مذکورہ قواعد کو مدنظر رکھے بغیر جاری ہوا، جو ریکارڈ پر موجود قانونی غلطی کے مترادف ہے۔
نظرثانی درخواست میں آئین کے آرٹیکل 10 اے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ منصفانہ ٹرائل اور قانونی تقاضوں کے تحت تمام متعلقہ فریقوں کو سماعت کا مناسب نوٹس ملنا ضروری ہے، لیکن موجودہ معاملے میں پٹیشنر کو نوٹس نہیں دیا گیا۔
درخواست میں یہ اعتراض بھی اٹھایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹ کی بنیاد پر عبوری ریلیف دیا، تاہم درخواست گزار کے مطابق رپورٹ میں ایسی کوئی بات موجود نہیں تھی جس سے ان کی حالت تشویشناک ثابت ہوتی ہو۔ درخواست میں عدالت سے طبی ماہرین کی رائے لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
چیف کمشنر کی درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کی چاروں اہم استدعائیں عبوری حکم کے ذریعے منظور کرلیں، جن میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی، ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف تک رسائی، اہلخانہ سے ملاقات اور طبی رپورٹس کی مصدقہ نقول وکیل کو فراہم کرنا شامل ہیں۔
درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ اس طرح عبوری مرحلے پر ہی عمران خان کو مطلوبہ حتمی نوعیت کا ریلیف فراہم کردیا گیا، جبکہ قانون کے مطابق عبوری ریلیف حتمی ریلیف کی شکل اختیار نہیں کر سکتا۔
نظرثانی درخواست میں آئین کے آرٹیکل 25 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تمام شہریوں کے ساتھ قانون کے مطابق مساوی سلوک ہونا چاہیے۔ درخواست گزار کے مطابق اگر ایک سزا یافتہ قیدی کو اس کی پسند کے نجی ہسپتال میں علاج کی اجازت دی جاتی ہے تو اسی نوعیت کے دیگر قیدی بھی ایسی ہی سہولت کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔
چیف کمشنر آئی سی ٹی نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا ہے کہ فوجداری پی ایل اے میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر اسلام آباد فریق تھا، جبکہ چیف کمشنر آئی سی ٹی نہ تو فریق تھے اور نہ ہی حکم جاری کرنے سے پہلے انہیں نوٹس دیا گیا۔ درخواست میں اسے قدرتی انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب سپریم کورٹ کے اٹھارہ اگست کے حکم نامے کے مطابق عمران خان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ جیل حکام کی جانب سے انہیں مکمل طبی رپورٹس، ٹیسٹ رپورٹس اور جاری علاج کی تفصیلات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ حکومت کی جانب سے ایسی معلومات فراہم کرنے پر کوئی قانونی پابندی موجود نہیں۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی قرار دیا کہ عدالت کے سامنے موجود طبی خلاصہ بظاہر عمران خان کی صحت خراب ہونے کی نشاندہی کرتا ہے، اسی بنیاد پر عدالت نے عبوری طور پر مناسب علاج کا انتظام کرنے کا فیصلہ کیا اور شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت دی۔
سپریم کورٹ نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کو بھی آئندہ سماعت تک مؤخر کردیا تھا۔
چیف کمشنر آئی سی ٹی کی نظرثانی درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ اٹھارہ اگست دو ہزار چھبیس کا متنازعہ حکم واپس لیا جائے اور درخواست گزار کے مؤقف کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملے کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔
نظرثانی درخواست کے مطابق یہ اس حکم کے خلاف چیف کمشنر آئی سی ٹی کی پہلی نظرثانی درخواست ہے۔