سپریم کورٹ کا عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کا حکم، میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو آئندہ سماعت تک شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ان کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کردی۔

عمران خان سے ملاقات اور علاج سے متعلق مقدمات کی سماعت کے دوران عدالت نے ہدایت کی کہ انہیں سخت سکیورٹی میں ہسپتال منتقل کیا جائے اور ہسپتال کے باہر امن و امان کی صورتحال متاثر نہ ہونے دی جائے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کردی۔

سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید نے عمران خان کا مکمل میڈیکل ریکارڈ عدالت میں پیش نہ کیے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ فراہم کیا گیا مواد صرف میڈیکل رپورٹ کی سمری ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت سے قبل عمران خان کا مکمل میڈیکل ریکارڈ طلب کرلیا۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ اگر میڈیکل رپورٹ میں انجیوگرافی کی ضرورت کا ذکر ہے تو کیا یہ عمل جیل میں ممکن ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے جواب دیا کہ انجیوگرافی جیل سے باہر ہسپتال میں ہوسکتی ہے۔

جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ میڈیکل رپورٹس کے مطابق عمران خان کے اہم طبی اشاریے معمول پر نہیں اور ان کے وائیٹل آرگنز متاثر ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔

بہنوں سے ملاقات بنیادی حق قرار

عدالت نے عمران خان کی بہنوں سے ملاقات کے معاملے پر بھی تفصیلی استفسار کیا۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ تین سال کے دوران عمران خان کی بہنوں سے 48 ملاقاتیں کرائی گئی ہیں۔

سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل حکام سے گزشتہ تین سال کے دوران عمران خان سے ہونے والی ملاقاتوں کی مکمل تفصیلات طلب کرتے ہوئے بچوں سے ٹیلی فون پر بات کرانے کا ریکارڈ بھی پیش کرنے کی ہدایت کی۔

جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ بہنوں سے ملاقات کوئی احسان نہیں بلکہ بنیادی حق ہے، جبکہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون اور عدالتی احکامات پر عمل کرے۔

ذاتی معالجین سے ملاقات کی درخواست

پی ٹی آئی کے وکیل عزیر بھنڈاری نے عدالت سے استدعا کی کہ عمران خان کا مکمل طبی معائنہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں کرایا جائے اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔

عدالت نے نجی ہسپتال منتقل کرنے کی وجہ اور علاج کے اخراجات سے متعلق بھی سوالات کیے۔ وکیل کی جانب سے بتایا گیا کہ نجی ہسپتال کے اخراجات پی ٹی آئی برداشت کرے گی۔

عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ علاج اور میڈیکل رپورٹس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرنے کی ضمانت کون دے گا۔ وکلاء کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ طبی رپورٹس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک کا معاملہ

سماعت کے دوران عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کے معاملے پر بھی بحث ہوئی۔ عدالت نے واضح کیا کہ ملاقات کی اجازت عدالتی شرائط کے تحت ہوگی اور پی ٹی آئی اور خاندان کو یقین دہانی کرانا ہوگی کہ ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک نہیں کی جائے گی۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی کو عمران خان کی صحت کے معاملے پر سیاست نہیں کرنی چاہیے اور ان کے علاج کو سیاسی تنازع نہیں بنانا چاہیے۔

عمران خان کے مقدمات کی تفصیلات بھی طلب

سپریم کورٹ نے عمران خان کے خلاف مقدمات کی مکمل تفصیلات بھی طلب کرلیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ عمران خان کتنے مقدمات میں زیرِ سماعت قیدی ہیں، کتنے مقدمات میں سزا یافتہ ہیں اور کتنے کیسز میں سزائیں معطل ہوچکی ہیں۔

عدالت نے اڈیالہ جیل حکام سے گزشتہ تین سال کے دوران عمران خان سے ہونے والی ملاقاتوں کا مکمل ریکارڈ بھی طلب کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجوہات پوچھ لیں۔

اگلی سماعت 16 ستمبر کو ہوگی

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ عمران خان کو سخت سکیورٹی میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، ان کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے اور ہسپتال میں ان کے علاج کے دوران سکیورٹی اور امن و امان کے مناسب انتظامات کیے جائیں۔

عدالت کے مطابق ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی علاج کے عمل میں موجود ہوں گے، جبکہ عمران خان سے اہلخانہ کی ہفتے میں ایک دن ملاقات بھی کرائی جائے گی۔

عمران خان آئندہ سماعت تک ہسپتال میں رہیں گے اور نجی ہسپتال کے علاج کے اخراجات پی ٹی آئی برداشت کرے گی۔

سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 16 ستمبر 2026 تک ملتوی کردی اور آئندہ سماعت پر اڈیالہ جیل حکام کو بھی طلب کرلیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں