امریکا (اولس نیوز ) امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد شروع ہونے والی کشیدگی ایک بڑی جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اس تنازع نے نہ صرف ہزاروں انسانی جانوں کو متاثر کیا بلکہ خطے کی معیشت کو بھی بھاری نقصان پہنچایا ہے۔
مختلف ذرائع کے مطابق ہلاکتوں کے اعداد و شمار مکمل طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں، تاہم دستیاب رپورٹس اس جنگ کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔ ایران میں ہزاروں افراد جان سے جا چکے ہیں، جبکہ بین الاقوامی اداروں نے بھی بڑی تعداد میں اموات کی تصدیق کی ہے۔ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں، اور اقوام متحدہ کے اہلکار بھی متاثر ہوئے ہیں۔
عراق، اسرائیل اور دیگر علاقوں میں بھی جانی نقصان رپورٹ ہوا ہے۔ اسرائیل پر ہونے والے میزائل حملوں اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران فوجی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں۔ امریکی فوج کو بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جہاں کئی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے، جبکہ خلیجی ممالک میں بھی مختلف واقعات میں اموات ہوئیں۔
یہ جنگ صرف انسانی المیے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے معاشی اثرات بھی انتہائی سنگین ہیں۔ ابتدائی فوجی کارروائیوں پر ہی اربوں ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ فوجی تنصیبات کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔ مجموعی طور پر اس مہم پر اخراجات کئی درجن ارب ڈالر تک جا پہنچے ہیں۔
توانائی کا شعبہ خاص طور پر متاثر ہوا ہے۔ کئی ممالک میں تیل اور گیس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، جس کے باعث پیداوار میں نمایاں کمی آئی۔ اس صورتحال نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق تباہ شدہ تنصیبات کی بحالی پر بھی اربوں ڈالر خرچ ہوں گے۔
سیاحت کی صنعت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ جنگ کے آغاز کے چند ہی دنوں میں اربوں ڈالر کی آمدنی کم ہو گئی، ہزاروں پروازیں منسوخ ہوئیں، اور ہوٹل بکنگز میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو سیاحوں کی تعداد میں بڑی کمی اور مزید معاشی نقصان کا خدشہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی ختم نہ ہوئی تو نہ صرف خطے میں عدم استحکام بڑھے گا بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔




