امریکا کا ایران میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم سے حملہ، ویڈیو بھی شیئر کردی


ایران میں حساس معلومات دشمن کو فراہم کرنے کے شبہے میں دو افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی سیکیورٹی فورسز نے دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

ایران کے شمال مغربی علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے دو افراد کو گرفتار کیا جن پر الزام ہے کہ انہوں نے حساس مقامات کے بارے میں دشمن کو معلومات فراہم کیں۔

رپورٹس کے مطابق الزام میں بتایا گیا کہ ملزمان نے  حساس مقامات کی معلومات امریکا اور اسرائیل کی جاسوسی ایجنسیوں کو فراہم کیں۔

افراد کو گرفتار کرکے مزید تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بند رہنے کے باوجود وہ ایران جنگ ختم کرنے کیلئے تیار ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وال سٹریٹ جرنل نے ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ وہ ایران جنگ کو ختم کرنے کے لیے تیار ہیں بھلے آبنائے ہرمز بند رہے۔

ٹرمپ اور ان کے معاونین کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے فوجی کارروائیاں ایران کے تنازع کو چار سے چھ ہفتوں کی ٹائم لائن سے آگے دھکیل دیں گی۔ انتظامیہ کے حکام نے بتایا کہ صدر کے پاس فوجی اختیارات ہیں، لیکن وہ ان کی ترجیح نہیں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے فیصلہ کیا ہے کہ امریکا ایران کی بحریہ اور میزائلوں کو تباہ کرکے اپنے مقاصد حاصل کرے، پھر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے تہران پر سفارتی دباؤ ڈالے گا اور دشمنی کو ختم کرے گا۔ اور اگر ایران ایسا نہیں کرتا تو واشنگٹن یورپ اور خلیج میں اتحادیوں پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ آبنائے کو دوبارہ کھلوائیں۔

واضح رہے کہ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز نہ کھلی تو ایران کے شہری بنیادی انفراسٹرکچر پر 

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں آدھے سے زیادہ مقاصد حاصل کرلیے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے ایک امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے اس جنگ میں آدھے سے زیادہ اہداف حاصل کرلیے ہیں تاہم لیکن اس جنگ کے خاتمے پر میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

انہوں نے کہا کہ جنگ نے ایران کے پاسداران انقلاب کے “ہزاروں” ارکان کو ہلاک کرنے سمیت کئی اہداف حاصل کیے ہیں۔ ہم ان کی ہتھیاروں کی صنعت کو ختم کرنے کے بھی قریب ہیں۔

نیتن یاہو نے اس اعتماد کا بھی اظہار کیا کہ ایران کی اسلامی جمہوریہ ختم ہوجائے گی تاہم انہوں نے اضافہ کیا کہ جنگ کا مقصد یہ نہیں تھا۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ جنگ ​​کا آغاز کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے  کہا تھا کہ یہ آپریشن چار سے چھ ہفتے تک جاری رہے گا۔

سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ جنگ مہینوں کے بجائے ہفتوں جاری رہے گی۔ نیتن یاہو اور ٹرمپ نے بارہا الزام لگایا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب ہے جبکہ یہ الزام اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کی رپورٹ 

اپنا تبصرہ بھیجیں