چمن (اولس نیوز ) چمن آج خوف اور بے یقینی کی تصویر بنا ہوا ہے جہاں افیون کے خلاف آپریشن کے نام پر سیکورٹی اہلکار گھروں میں داخل ہو رہے ہیں، عینی شاہدین کے مطابق چاردیواری کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے اور کئی گھروں سے سولر سسٹم تک اٹھا لیے گئے ہیں جو مہنگائی کے اس دور میں لوگوں کا واحد سہارا تھے، اس تمام صورتحال کے دوران خواتین اور بچوں کی چیخ و پکار دل دہلا دینے والی ہے، معصوم بچے خوف سے سہمے ہوئے ہیں اور مائیں بے بسی کی تصویر بنی کھڑی ہیں، یہ منظر کسی جنگی علاقے کا نہیں بلکہ عام شہریوں کے گھروں کا ہے جہاں قانون کو تحفظ دینا چاہیے مگر یہاں خوف پھیلتا نظر آ رہا ہے، سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ کارروائی صرف منشیات کے خلاف ہے یا اس کی آڑ میں عام شہری متاثر ہو رہے ہیں، افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ چمن انتظامیہ اس معاملے پر مکمل خاموش ہے اور کوئی واضح موقف دینے سے انکاری ہے جس سے عوام میں بے چینی اور غصہ بڑھ رہا ہے، ایسے میں وزیر اعلیٰ بلوچستان سے اپیل ہے کہ وہ فوری نوٹس لیں، اگر کسی نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور متاثرہ عوام کو انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے کیونکہ ریاست کی اصل ذمہ داری عوام کو خوف میں مبتلا کرنا نہیں بلکہ انہیں تحفظ دینا ہے۔
چمن کے گھروں میں آپریشن: خوف، خواتین کی زاری اور بچوں کی بے بسی




