لاہور: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) دہشت گرد جماعت ہے تو پھر حکومت نے اس کے ساتھ مذاکرات کیوں کیے؟
مولانا فضل الرحمان نے ملک میں دہشت گردی کی صورتحال پر پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملات پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث ہونی چاہیے تاکہ قوم کو حقائق سے آگاہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ماحول میں ان کے تقریباً 250 علما اور کارکن شہید ہو چکے ہیں۔ ان کا سوال تھا کہ اگر خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی بنیاد پر اقدامات کیے جا رہے ہیں تو کیا بلوچستان میں دہشت گردی نہیں ہو رہی؟
مولانا فضل الرحمان کے مطابق وزیراعظم سے ملاقات کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے مطالبات سامنے آئے، تاہم دونوں جانب سے ایک دوسرے پر وعدے پورے نہ کرنے کے الزامات لگائے گئے۔
جے یو آئی کے سربراہ نے زور دیا کہ دہشت گردی جیسے اہم معاملے پر سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے اور قوم کو اعتماد میں لیا جائے۔




