لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں عوامی امن و امان اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر 6 اکتوبر سے 15 اکتوبر 2026ء تک دفعہ 144 نافذ کردی ہے۔ اس حوالے سے محکمہ داخلہ پنجاب نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق عوامی مقامات، شاہراہوں اور کھلی جگہوں پر 5 یا اس سے زائد افراد کے اجتماعات، جلسوں، جلوسوں، ریلیوں، دھرنوں اور مظاہروں پر پابندی ہوگی۔ غیر قانونی اجتماعات میں لوگوں کو شرکت کے لیے اکسانے یا ترغیب دینے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔
محکمہ داخلہ کے مطابق عوامی مقامات پر ہتھیار لے جانے اور ان کی نمائش پر بھی پابندی ہوگی، جبکہ ڈیوٹی پر موجود قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق شادی کی تقریبات، نمازِ جنازہ، تدفین، مساجد اور دیگر عبادت گاہیں پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ عدالتوں، سرکاری اداروں اور باضابطہ اجازت سے منعقد ہونے والی تقریبات پر بھی پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔
محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے فوری نوعیت کے سکیورٹی خدشات سے متعلق اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ حکام کے مطابق ممکنہ خطرات کے پیش نظر عوامی اجتماعات کو ممکنہ ہدف بننے سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ اقدام کیا گیا ہے۔



