مذاکرات ناکامی میں کلیدی کردار محمود خان اچکزئی نے ادا کیا، ذرائع کا دعویٰ

اسلام آباد( اولس نیوز )  حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکراتی عمل میں ڈیڈ لاک پیدا کرنے میں محمود خان اچکزئی کا اہم کردار تھا، جو اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی پر نمایاں اثر رکھتے تھے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران محمود خان اچکزئی تقریباً ہر معاملے کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کی رہائی سے جوڑتے رہے۔ ایک مرحلے پر حکومت بیرسٹر گوہر کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر آمادہ بھی ہوگئی تھی، تاہم دیگر معاملات پر اتفاق نہ ہونے کے باعث مذاکرات آگے نہ بڑھ سکے۔

لانگ مارچ اور انسداد دہشت گردی کا معاملہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ ملتوی نہ کرنا اور انسداد دہشت گردی کے معاملے پر معاہدے کے لیے اتفاق رائے پیدا نہ ہونا مذاکراتی عمل میں بڑی رکاوٹ بنے۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن اراکین پر مبینہ بیرونی دباؤ کے باعث مذاکرات کے دوران متعدد مرتبہ ڈیڈ لاک پیدا ہوا، جبکہ حکومتی کمیٹی کو مکمل اختیار حاصل تھا اور اس نے کئی معاملات پر مسلسل لچک کا مظاہرہ کیا۔

تاہم ذرائع نے دعویٰ کیا کہ محمود خان اچکزئی اور سہیل آفریدی کی جانب سے کیے گئے مطالبات پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات مزید بڑھ گئے۔

خیبرپختونخوا حکومت اور اپوزیشن قیادت میں اختلافات
ذرائع کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ اپوزیشن قیادت اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان اختلافات بھی تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے بعض اراکین وفاق اور ریاستی پالیسیوں کے مطابق معاملات آگے بڑھانے پر آمادہ تھے، تاہم خیبرپختونخوا حکومت نے دہشت گردی سے متاثرہ اضلاع میں وفاقی حکومت کی مدد قبول کرنے سے بھی انکار کیا۔

کمیٹی کے لیے یہ صورتحال حیران کن تھی کہ خیبرپختونخوا حکومت وفاق کے ساتھ تعاون پر کیوں تیار نہیں تھی۔

معاہدے سے پہلے ہی لانگ مارچ کا اعلان
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے مذاکرات میں اتفاق رائے سے قبل ہی لانگ مارچ کے اعلانات کیے جاتے رہے، جس سے مذاکراتی عمل مزید متاثر ہوا۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے دیگر معاملات پر لچک دکھانے کے لیے تیار تھے، تاہم اپوزیشن کے بعض مطالبات اور خیبرپختونخوا حکومت کے مؤقف کے باعث معاملات طے نہ پا سکے۔

مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری کس پر؟
ذرائع نے مذاکرات کی ناکامی کا زیادہ تر بوجھ خیبرپختونخوا حکومت کے رویے پر ڈالا ہے۔ ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کی مبینہ ہٹ دھرمی اور بعض معاملات پر سخت مؤقف کے باعث حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں