صدر اور وزیراعظم جب بہتر سمجھیں گے ان آپشن کا استعمال کرتے ہوئے کے پی میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگا دیں گے۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ صدر اور وزیراعظم جب بہتر سمجھیں گے کے پی میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگا دیں گے۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کا آپشن آئین میں موجود ہے۔ صدر اور وزیراعظم جب بہتر سمجھیں گے ان آپشن کا استعمال کرتے ہوئے کے پی میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگا دیں گے۔

گورنر کے پی نے کہا کہ اگر گورنر راج یا ایمرجنسی بہت بری چیز ہوتی تو آئین میں نہ ہوتی اور اسے بھی آئین سے 58 ٹو بی کی طرح ختم کر دیا جاتا۔ گورنر راج یا ایمرجنسی تباہی سے بچانے کے لیے آخری حربہ ہوتا ہے۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ اسمبلی تحلیل کرنا حکومت کا کام ہے، جب ہوگی تب دیکھا جائے گا۔ اگر اسمبلی تحلیل کی گئی تو آئینی اور قانونی طریقے سے پوزیشن دیکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری اسمبلی تحلیل کرنے کی کوئی خواہش نہیں ہے، جن کی اسمبلی تحلیل کرنے کی خواہش ہے انہیں سوچنا چاہیے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اسمبلی تحلیل ہوتی ہے تو دوبارہ انتخابات ہوں گے، ہر معاملہ آئینی اور قانونی طریقے سے ہونا چاہیے۔

گورنر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس وقت کے پی اسمبلی میں اپوزیشن تحریک عدم اعتماد لانے کی پوزیشن میں نہیں۔ اسمبلی میں حکومتی اراکین 91 جب کہ اپوزیشن کے 52 ہیں، اور دونوں میں کافی فرق ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک بننے تک عدم اعتماد کی تحریک نہیں لائی جا سکتی اور مجھے نہیں لگتا کہ موجودہ صورتحال میں وزیر اعلیٰ تبدیل ہو سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں