اسلام آباد: پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان باضابطہ مذاکرات آج 28 ستمبر سے اسلام آباد میں شروع ہوگئے ہیں۔ مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خزانہ کریں گے جبکہ آئی ایم ایف مشن چیف کی سربراہی میں وفد شریک ہوگا۔
مذاکرات میں 30 جون 2026 تک کے معاشی اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے گا۔ پاکستان کی جانب سے ساورن ویلتھ فنڈ، گردشی قرض میں کمی، کرنٹ اکاؤنٹ، پرائمری سرپلس، زرمبادلہ کے ذخائر اور شرحِ تبادلہ سے متعلق بریفنگ دی جائے گی۔
آئی ایم ایف اور ایف بی آر کے درمیان ٹیکس نیٹ میں توسیع اور ٹیکس اصلاحات پر بھی بات ہوگی، جبکہ وزارتِ توانائی گردشی قرض اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات سے آگاہ کرے گی۔
مذاکرات میں صوبوں کی ٹیکس اور نان ٹیکس آمدن، زرعی ٹیکس کی وصولی، اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنے کے اقدامات بھی زیرِ بحث آئیں گے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کا سلسلہ 7 اکتوبر تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران پاکستان کے آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر سے زائد کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام اور موسمیاتی مالی معاونت پروگرام کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔
مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں پاکستان کو دونوں پروگراموں کے تحت آئندہ اقساط میں مجموعی طور پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان باقاعدہ مذاکرات آج سے شروع




