نوکریوں کی مبینہ فروخت کے شواہد وزیراعلیٰ کے سامنے پیش، سردار مسعود لونی کے مستقبل کا فیصلہ باقی

نوکریوں کی مبینہ فروخت کے شواہد پیش، اب وزیراعلیٰ بلوچستان کا امتحان

محکمہ جنگلات میں نوکریوں کی مبینہ فروخت کے الزامات نے بلوچستان کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے، اور اب یہ معاملہ محض الزامات تک محدود نہیں رہا۔

 کوئٹہ ( اولس نیوز کوئٹہ ) ذرائع کے مطابق نور محمد دمڑ نے آج وزیراعلیٰ بلوچستان کے سامنے اس معاملے سے متعلق شواہد پیش کر دیے ہیں۔ اب گیند مکمل طور پر وزیراعلیٰ بلوچستان کے کورٹ میں ہے۔ وزیراعلیٰ نے خود اسمبلی کے فلور پر واضح اعلان کیا تھا کہ اگر ان کی کابینہ کے کسی وزیر پر نوکریوں کی فروخت کا الزام ثابت ہوا تو وہ اسے کابینہ میں نہیں رکھیں گے۔
تو اب سوال یہ ہے کہ کیا اس اعلان پر عمل ہوگا؟ اگر تحقیقات میں وزیر جنگلات سردار مسعود لونی پر لگائے گئے الزامات ثابت ہوتے ہیں تو پھر ان کے لیے عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی جواز نہیں ہونا چاہیے، اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے یا وزیراعلیٰ کو قانون اور اپنے اعلان کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے۔ لیکن اگر تحقیقات میں الزامات ثابت نہیں ہوتے، تو پھر شواہد پیش کرنے والے نور محمد دمڑ کو بھی اپنے دعووں کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ یہ معاملہ کسی ایک وزیر یا ایک رکن اسمبلی کا نہیں، بلکہ سرکاری ملازمتوں، میرٹ اور ہزاروں بے روزگار نوجوانوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ بلوچستان کے نوجوان یہ جاننا چاہتے ہیں کہ سرکاری نوکریاں میرٹ پر ملتی ہیں یا اثر و رسوخ اور پیسے کے ذریعے؟ اب وزیراعلیٰ بلوچستان کے لیے اصل امتحان ہے۔ اس معاملے میں مصلحت، سیاسی دباؤ یا خاموشی نہیں، بلکہ شفاف تحقیقات اور دوٹوک فیصلہ ہونا چاہیے۔الزام درست ہے تو کارروائی ہونی چاہیے، الزام غلط ہے تو الزام لگانے والے سے جواب طلبی ہونی چاہیے—لیکن اس معاملے کو دبایا نہیں جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں