ایران سے معاہدہ قریب، تقریب یورپ میں ہونے کا امکان: صدر ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی دستاویزات آخری مرحلے میں ہیں اور اس پر رواں ہفتے کے اختتام تک دستخط ہو سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، دستخط کی یہ تاریخی تقریب یورپ میں ہونے کا امکان ہے جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس شرکت کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امن کے اس عمل میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ امن معاہدے میں پاکستان بہترین کردار ادا کر رہا ہے اور وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل عظیم شخصیت ہیں۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے ایرانی سپریم لیڈر معاہدے کی منظوری دے چکے ہیں اور وہ اس پر راضی ہیں، جس کے بعد ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا پائے گا۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی جس پر پورا مشرقِ وسطیٰ خوش ہے۔

دوسری جانب، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی صدر کے ان دعوؤں پر فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک امریکا کے ساتھ کسی معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔

ترجمان نے دستخط کی تاریخ اور مقام سے متعلق خبروں کو محض قیاس آرائی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ مذاکراتی متن کا بڑا حصہ تو تیار ہے لیکن امریکا بار بار اپنی پوزیشن بدلتا رہا ہے۔

اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ قطر اور پاکستان ثالثی کے عمل میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم ایران مذاکرات میں اپنی ریڈ لائنز یعنی بنیادی اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

اس کے ساتھ ہی ’فارس‘ نیوز ایجنسی نے بھی ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے اتفاقِ رائے سے متعلق صدر ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی امریکا کے ساتھ کوئی حتمی مسودہ طے نہیں پایا ہے۔

اس سفارتی گہما گہمی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان ایک اہم ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا ہے، جس میں امریکا ایران مفاہمتی یادداشت پر گفتگو کی گئی۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق، نیتن یاہو نے ایران معاہدے سے متعلق صدر ٹرمپ کے مؤقف پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں