پاکستان کرکٹ بورڈ نے فاسٹ بولر نسیم شاہ پر 2 کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی ڈسپلنری کمیٹی نے قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر نسیم شاہ کے خلاف سینٹرل کانٹریکٹ کی خلاف ورزی کے الزام پر کارروائی کرتے ہوئے 2 کروڑ روپے جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق نسیم شاہ نے بورڈ کی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے جس کی وجہ سے یہ سزا دی گئی۔

شو کاز نوٹس ستائیس مارچ کو جاری کیا گیا تھا۔ تین رکنی ڈسپلنری کمیٹی نے سماعت کے بعد نسیم شاہ کی غیر مشروط معافی کا نوٹس لیا۔ سنٹرل کنٹریکٹ کی متعدد شقوں کی خلاف ورزی اور سوشل میڈیا گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی ثابت ہوئی۔

پی سی بی نے نسیم شاہ کے سوشل میڈیا ایڈوائزر کو بھی بلیک لسٹ کر دیا، جس کے بعد وہ کسی پی سی بی کنٹریکٹڈ کھلاڑی کے ساتھ کام نہیں کر سکے گا۔ پی سی بی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ معیار کو برقرار رکھنے کے لئے پرعزم ہے۔

واضح رہے کہ 26 مارچ کو پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے افتتاحی میچ کے موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز قذافی سٹیڈیم آئیں تھیں۔ اس موقع پر نسیم شاہ کے ایکس اکاؤنٹ سے ایک پوسٹ کی گئی تھی جس میں لکھا گیا کہ ’انہیں ملکہ کی طرح کیوں پروٹوکول دیا جارہا ہے‘؟

بعدازاں کچھ دیر بعد اس پوسٹ کو ڈیلیٹ کردیا گیا تھا اور نسیم شاہ کی جانب سے وضاحت بھی آئی تھی  کہ ان کا ایکس اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے۔ تاہم نیسم شاہ کے متعلقہ بیان نے کرکٹ حلقوں میں ہلچل مچا دی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں