کوئٹہ (پ-ر) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکزی رہنماء و صوبائی صدر بلوچستان ملک عمران اللہ کاکڑ صوبائی جنرل سیکرٹری سید سلیم اختر ایڈوکیٹ و اراکین کمیٹی نے محکمہ ایکسائز کی جانب سے معروف صحافی کے خلاف ایف آئی آر قابل مذمت اور کرپشن کا واضح ثبوت ہیں۔ بلوچستان بالخصوص کوئٹہ میں کرپٹ سرکار کے خلاف واحد اپوزیشن نڈر صحافی ہیں۔ جن کے خلاف اس طرح کے اوچھےہتھکنڈے حق و سچ کی آواز کو دبانے کی ناکام کوشش ہیں ۔ بلوچستان میں سرکار اپوزیشن کے گٹھ جوڑ کی قیادت میں کرپشن اور سرعام سرکاری کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے غنڈہ گردی کا بازار گرم ہیں۔ آج اگر بلوچستان میں صرف محکمہ ایکسائز کے انسپکٹر سے لیکر سپاہی کے خلاف شفاف تحقیقات کی جائیں تو ہوشربا آمدن کے آثاثہ جات عوام کے سامنے آئینگے اس وقت بلوچستان میں اکثر غیر قانونی گاڑیاں اور اسمگلنگ کا کاروبار کو محکمہ ایکسائز کی سربراہی میں اور انکے اکثر افسران اس وقت گاڑیوں سمیت غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہیں۔ ان حالات میں جہاں ایک طرف ہر محکمہ کرپشن میں بے تاج بادشاہ بنا ہوا ہیں وہی دوسری طرف چند صحافی حضرات کی جانب سے نڈر اور بےباک صحافت کرنے اور کرپٹ عناصر کی نشاندہی کرنے پر ان کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج دراصل محکموں کی بوکھلاہٹ اور انکے کرپٹ ذہنیت کی مکمل عکاسی کرتی ہیں۔ محکمہ ایکسائز کی سربراہی میں بارڈر سے گاڑیاں پورے ملک میں پہنچائی جارہی ہیں اس کے بعد عام سادہ لوح عوام کو پریشان کرنیکے لئے سڑکوں پر چیکنگ کے نام پر لوٹنے مار اور بلیک میلنگ کرنا محکمہ ایکسائز کا پرانا کاروبار طریقہ کار رہا ہیں
ایم کیو ایم بلوچستان محکمہ اینٹی کرپشن- سمیت تمام تحقیقاتی اداروں سے پرزور مطالبہ کرتی ہیں کہ محکمہ ایکسائز کے افسران و ملازمین کے خلاف ایک وسیع و جامع انکوائری عمل میں لائی جائیں تاکہ عوام کو بھی پتہ چل سکیں کہ 50 ہزار تنخواہ لینے والے سپاہی اور 1 لاکھ تنخواہ لینے والے ایکسائز انسپکٹر آج اربوں روپے کہاں سے کما چکے ہیں ایم کیو ایم بلوچستان وزیراعلٰی بلوچستان سے بھی پرزور مطالبہ کرتی ہیں کہ صحافی کے خلاف ایف آئی آر واپس لیکر محکمہ ایکسائز کے خلاف آزادانہ شفاف تحقیقات کا آغاز کریں
محکمہ ایکسائز کی جانب سے آغا عبید کے خلاف ایف آئی آر قابل مذمت ایم کیو ایم پاکستان کے صوبائی صدر بلوچستان ملک عمران اللہ کاکڑ




