صحافی آغا عبید کے خلاف دفعات 353، 186، 189 اور 504 — سچ بولنے کی قیمت؟
کوئٹہ: اولس نیوز کوئٹہ کے بیورو چیف اور صحافی آغا عبید کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 353، 186، 189 اور 504 کے تحت درج ایف آئی آر نے سنجیدہ سوالات کو جنم دے دیا ہے۔
مبینہ طور پر ایک گاڑی پکڑے جانے کے معاملے میں، گاڑی کے اصل مالک کے بجائے ایک صحافی کو نامزد کرنا خود ایک بڑا سوال بن چکا ہے۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ واقعے کے چار دن بعد ایف آئی آر درج کی گئی — جب کہ قانون میں فوری اندراج کو بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے۔
کیا یہ محض اتفاق ہے؟
آغا عبید نے حالیہ دنوں میں محکمہ ایکسائز میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بھرتیوں کے معاملات پر آواز اٹھائی تھی۔ اب انہی کے خلاف سخت دفعات کے تحت مقدمہ درج ہونا محض اتفاق ہے یا دباؤ ڈالنے کی کوشش؟
قانونی نکات جو جواب مانگتے ہیں دفعہ 353 کے لیے کیا واقعی کوئی جسمانی مزاحمت یا حملہ ہوا؟دفعہ 186 کے اطلاق کے لیے سرکاری کام میں کس نوعیت کی رکاوٹ ثابت کی گئی؟دفعہ 189 کے تحت دھمکی کے شواہد کہاں ہیں؟اگر واقعہ 14 فروری کا تھا تو ایف آئی آر چار دن بعد کیوں؟
صحافت یا جرم؟
اگر کسی صحافی کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ سرکاری اداروں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرے، تو پھر یہ سوال ہر صحافی کے لیے ہے:
کیا سچ لکھنا خطرناک ہو چکا ہے؟
عوامی مطالبہ
شہری، وکلا اور صحافتی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ:ایف آئی آر کا فوری اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے دفعات کے اطلاق کی مکمل وضاحت عوام کے سامنے رکھی جائے اگر قانون کا استعمال دباؤ کے لیے کیا گیا ہے تو ذمہ داروں کا تعین کیا جائے
قانون کا احترام سب پر لازم ہے — لیکن قانون کا استعمال اگر سوال اٹھانے والوں کو خاموش کرنے کے لیے ہو، تو پھر سوال صرف ایک شخص کا نہیں رہتا، پورے معاشرے کا بن جاتا ہے۔




