کوئٹہ: محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی جانب سے بی ڈی ایم اے کے صدر اور اولس نیوز کے چیف ایڈیٹر آغا عبید کے خلاف ایف آئی آر درج کیے جانے کے بعد معاملہ ایک نئی بحث کا رخ اختیار کر گیا ہے۔
ترجمان بی ڈی ایم اے، نقیب اللہ خالد کے مطابق، ایف آئی آر درج کرنے سے قبل قانونی تقاضوں کو مکمل نہ کرنا محکمے کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف طریقہ کار پر شکوک پیدا ہوئے بلکہ شفافیت کے دعووں پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
پیکا ایکٹ کا ذکر اور قانونی پہلو
بی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق، مبینہ طور پر پہلے پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی پر غور کیا گیا، تاہم بعد ازاں ایف آئی آر درج کی گئی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر کسی خبر پر اعتراض تھا تو قانونی اور ضابطہ جاتی طریقہ کار اپنایا جانا چاہیے تھا تاکہ ابہام پیدا نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قانونی اور اخلاقی سوالات کیا ایف آئی آر درج کرنے سے پہلے تمام قانونی تقاضے مکمل کیے گئے؟کیا متعلقہ فریق کو وضاحت یا مؤقف دینے کا موقع دیا گیا؟کیا خبر کے مندرجات کی غیر جانبدارانہ جانچ کی گئی؟
بی ڈی ایم اے کا مؤقف ترجمان بی ڈی ایم اے نقیب اللہ خالد کا کہنا ہے:“ایک ذمہ دار معاشرتی فرد اور صحافتی اصولوں کے مطابق آواز اٹھائی جاتی رہے گی۔ آواز کو دبانے والے ہمیشہ خود دب جاتے ہیں، مگر آواز نہیں دبائی جا سکتی۔”
شفاف تحقیقات کا مطالبہ صحافتی اور شہری حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ:ایف آئی آر کے قانونی پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے طریقہ کار کی شفاف وضاحت کی جائے آزادیٔ اظہار اور ذمہ دار صحافت کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے
یہ معاملہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ صحافتی آزادی، قانونی شفافیت اور ادارہ جاتی احتساب سے جڑا ہوا سوال بن چکا ہے۔




