بلوچستان: ایکسائز میں انسپیکٹر کی نوکری ڈیڑھ کروڑ میں نیلام، وزیراعلیٰ کے میرٹ کے دعوے ادھورے

بلوچستان (اولس نیوز ) وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ صوبے میں نہ نوکریاں بیچی جائیں گی اور نہ ہی سفارشیں قبول کی جائیں گی۔ یہ بیان انہوں نے محکمہ خزانہ بلوچستان میں میرٹ پر ہونے والی تعیناتیوں کی تقریب سے خطاب میں کہا، جو کہ ایک مثالی اقدام کے طور پر دیکھا گیا۔

تاہم، وزیراعلیٰ کے اس اعلان کے برعکس محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن بلوچستان میں حال ہی میں نوکریوں کی نیلامی کی گئی ہے۔ اس نیلامی میں تقریباً 300 پوسٹیں شامل ہیں، جن میں نمایاں درج ذیل ہیں:

انسپیکٹر: 40 سے زائد آسامیاں، ماہانہ تنخواہ تقریباً 50 ہزار روپے، بھولی کی قیمت ایک کروڑ سے زائد۔

جونیئر کلرک اور کمپیوٹر آپریٹرز: ماہانہ تنخواہ تقریباً 42 ہزار روپے، بھولی کی قیمت تقریباً 50 لاکھ روپے۔

کانسٹیبل: 150 آسامیاں، ماہانہ تنخواہ 35 ہزار روپے، فی اسامی بھولی کی قیمت 25 لاکھ روپے سے زائد۔

ان تمام پوسٹوں کی مجموعی بھولی تقریباً ایک ارب 37 کروڑ روپے بنتی ہے۔

عوامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے کہ اگر وزیراعلیٰ بلوچستان محکمہ خزانہ میں میرٹ پر تقرریاں یقینی بنا سکتے ہیں، تو پھر وہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں بھی ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔ اس سوال کے جواب میں شفافیت اور میرٹ پر مبنی تعیناتیوں پر زور دینے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے، تاکہ بھاری رشوت کے بعد کم تنخواہوں پر کام کرنے کا رجحان ختم کیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں