قومی ادارہ پاکستان پوسٹ کی گرتی ہوئی ساکھ
تحریر حافظ محمد صدیق مدنی
پاکستان پوسٹ ملک کے سب سے قدیم اور وسیع ترسیلی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ پاکستان بننے سے لے کر آج تک اس محکمے نے قومی سطح پر ایک نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ چاہے وہ خطوط کی ترسیل ہو، سرکاری اداروں کی ڈاک ہو، تعلیمی بورڈز اور یونیورسٹیوں کے نتائج و اسناد ہوں یا دیگر دستاویزی معاملات۔ پاکستان پوسٹ ہمیشہ ایک قابلِ اعتماد ادارہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ ملک کے طول و عرض میں پھیلا ہوا اس کا وسیع نیٹ ورک، دور دراز علاقوں تک رسائی، کم لاگت میں سہولت فراہم کرنا اور عوامی اعتماد حاصل کرنا اس کے وہ امتیازی پہلو تھے جن کی مثال دی جاتی تھی۔ خصوصاً بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے میں جہاں پرائیویٹ کورئیر خدمات ہر جگہ دستیاب نہیں ہوتیں یا ان کا خرچ عام شہری کی پہنچ سے باہر ہوتا ہے وہاں پاکستان پوسٹ ہی واحد امید بن کر سامنے آتا ہے۔ اس ادارے کے ملازمین اور عملے کی برسوں پرانی محنت اور خدمات عوام کی نظر میں قابلِ احترام سمجھی جاتی رہی ہیں۔ لیکن افسوس کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس قابلِ اعتماد ادارے کی کارکردگی میں جو کمی دیکھنے میں آرہی ہے وہ نہ صرف عوام کیلئے تشویش کا باعث ہے بلکہ ملک کے اس اہم ادارے کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان پوسٹ کی خدمات کے حوالے سے مختلف شہروں، اضلاع اور علاقوں سے شکایات کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا ہے۔ خاص طور پر خطوط اور ضروری دستاویزات کی ترسیل میں غیر معمولی تاخیر نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ جو خطوط چند دنوں میں پہنچنے چاہئیں وہ مہینوں بعد بھی منزل تک نہیں پہنچتے۔ یہ صورتحال نہ صرف عوامی مشکلات میں اضافہ کا سبب ہے بلکہ پاکستان پوسٹ پر اعتماد کو بھی بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے یہ شکایات عام ہیں کہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کوئٹہ کی جانب سے طلبہ کو بھیجے جانے والے رزلٹ کارڈز اور ڈی ایم سیز کئی کئی ماہ تک انہیں موصول نہیں ہوتے۔ تعلیمی سال کا آغاز ہو جاتا ہے لیکن طلبہ رزلٹ کارڈ نہ ملنے کی وجہ سے اپنے داخلوں، اسکالرشپس، کورسز اور پیشہ ورانہ معاملات میں سخت پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آج کے دور میں جہاں تعلیم اور اس کی دستاویزات کی وقت پر دستیابی انتہائی اہمیت رکھتی ہے، وہاں اس قدر تاخیر ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اسی قسم کی پریشان کن صورتحال کا حال امسال اس وقت سامنے آیا جب میرے اپنے بیٹے حافظ سیف الرحمٰن نے ایف اے کا امتحان دیا۔ رزلٹ نو ستمبر کو اعلان ہوا مگر اس کے باوجود رزلٹ کارڈ یعنی ڈی ایم سی دو ماہ بعد موصول ہوا۔ اتنی تاخیر کے باعث یونیورسٹی میں داخلے کی آخری تاریخ قریب آچکی تھی اور مجبوراً آن لائن ڈپلیکیٹ ڈی ایم سی بنوا کر اس کی بنیاد پر داخلہ لینا پڑا۔ یہ وہ صورتحال ہے جس کا سامنا صرف ایک طالب علم نے نہیں کیا بلکہ سینکڑوں طلبہ ہر سال اسی مسئلے سے دوچار ہوتے ہیں۔ بعض لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ شاید بورڈ انتظامیہ اور پاکستان پوسٹ کے کچھ عناصر اس میں ملے ہوئے ہوں تاکہ طلبہ کو بروقت ڈی ایم سی نہ ملے اور مجبور ہو کر بھاری فیس دے کر ڈپلیکیٹ ڈی ایم سی بنوائیں۔ اگرچہ اس الزام کی تصدیق کرنا آسان نہیں مگر جب تاخیر حد سے بڑھ جائے تو عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا ہونا فطری ہے۔ کسی بھی ادارے کیلئے سب سے بڑا نقصان یہی ہوتا ہے کہ عوام کا اعتماد ختم ہو جائے اور بدقسمتی سے یہی صورتحال پاکستان پوسٹ کے حوالے سے سامنے آرہی ہے۔ ضروری تعلیمی دستاویزات کی بروقت فراہمی نہ ہونے کے باعث طلبہ کی تعلیمی پیشرفت متاثر ہوتی ہے۔ کچھ طلبہ داخلوں کی آخری تاریخیں کھو دیتے ہیں، کچھ کو بیرونِ ملک اسکالرشپس کیلئے مشکلات پیش آتی ہیں جبکہ کچھ اپنے اگلے مراحل کیلئے پریشان رہتے ہیں۔ ایک قومی ادارے کیلئے یہ رویہ نہایت افسوسناک ہے۔ جب ایک والدین، ایک طالب علم یا ایک سرکاری ادارہ پاکستان پوسٹ کو اس ذمہ داری کے ساتھ اعتماد کے طور پر استعمال کرے اور پھر اس کے نتیجے میں نقصان کا سامنا کرے تو سوائے افسوس کے کچھ باقی نہیں رہتا۔ اسی طرح پاکستان کے دیگر اضلاع اور شہروں سے بھی شکایات سامنے آرہی ہیں کہ پرسنل خطوط، ڈاکومنٹس، شناختی کارڈز، بینک اسٹیٹمنٹس، سرکاری مراسلے اور دیگر اہم کاغذات بھی تاخیر سے پہنچتے ہیں یا بعض اوقات گم بھی ہوجاتے ہیں۔ اسی سلسلے میں حال ہی میں میں نے ایک نہایت اہم اور ضروری خط اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد کو رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعے چمن سے 24 نومبر پر بھیجا۔ اس خط کے ساتھ نہایت اہم دستاویزات بھی منسلک تھیں جن کی بروقت ترسیل نہایت ضروری تھی۔ رجسٹریشن نمبر RGL41526893 کے تحت یہ ڈاک روانہ کی گئی لیکن افسوس اٹھارہ دن گزرنے کے باوجود یہ ڈاک کوئٹہ ہی میں گھومتی رہی اور مقررہ مقام تک نہ پہنچ سکی۔ آج کے جدید دور میں جب دنیا چند منٹوں میں میل اور پارسل پہنچانے کی اہلیت رکھتی ہے اور پاکستان کا سرکاری ادارہ اگر ایک خط کو اٹھارہ دن میں بھی منزل تک نہ پہنچا سکے تو یہ صورتحال واقعی لمحۂ فکریہ ہے۔ اس غیر ذمہ دارانہ تاخیر نے نہ صرف ہمارے ضروری کام کو متاثر کیا بلکہ ہمیں اس نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑا جو بروقت ڈاک پہنچنے سے بچ سکتا تھا۔ سوال یہ ہے کہ ایسے میں قصور وار کون ہے؟ ہم جو اعتماد کر کے اپنی ڈاک پاکستان پوسٹ کے حوالے کرتے ہیں؟ یا پاکستان پوسٹ جو اپنے فرائض میں خلوص، توجہ اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام ہے؟
پاکستان پوسٹ اکثر عوام سے اپیل کرتا ہے کہ وہ پرائیویٹ کورئیر کمپنیوں کے بجائے سرکاری ادارے پر اعتماد کریں کیونکہ یہ ادارہ کم خرچ اور عوامی سطح پر قائم کیا گیا ہے۔ لیکن جب پاکستان پوسٹ خود بروقت ترسیل کی صلاحیت نہ دکھا سکے ، عوام کی توقعات پر پورا نہ اتر سکے اور ضرورت کے وقت لوگوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑے تو پھر عوام کو کیسے قائل کیا جائے کہ وہ اپنی قیمتی اور ضروری دستاویزات اس ادارے کے ذریعے بھیجیں؟ عوامی اعتماد کسی بھی ادارے کا سب سے بڑا سرمایا ہوتا ہے۔ اگر یہ اعتماد کمزور پڑ جائے تو ادارے کی ساکھ، خدمات اور مستقبل سب متاثر ہوتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان پوسٹ کے اعلیٰ حکام اس صورتحال کو سنجیدگی سے دیکھیں اور فوری اقدامات کریں۔ سب سے پہلے ادارے کی اندرونی مینجمنٹ کو بہتر بنانا، عملے کی نگرانی سخت کرنا، ڈاک خانوں میں موجود بے ضابطگیوں کا خاتمہ کرنا اور ترسیل کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جدید ٹریکنگ سسٹمز، تیز رفتار ترسیلی ذرائع اور عملے کی مناسب تربیت کے بغیر پاکستان پوسٹ کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح عوام سے فیڈبیک لینے کیلئے مناسب نظام قائم کیا جائے اور شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے۔ جن ڈاکخانوں میں تاخیر یا غفلت کی شکایات زیادہ ہوں وہاں انکوائری کی جائے اور متعلقہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ہم پاکستان پوسٹ کے منتظمین اور متعلقہ سرکاری حکام سے پُرزور درخواست کرتے ہیں کہ اس ادارے کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کیلئے فوری مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ یہ ادارہ ملک کا اثاثہ ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر پاکستان پوسٹ اپنی کارکردگی بہتر کرے، جدید نظام اپنائے اور عوام کے اعتماد کو دوبارہ بحال کرے تو یقیناً لوگ دوبارہ اس ادارے کی طرف رجوع کریں گے۔ لیکن جب تک یہ ادارہ اپنی موجودہ حالت میں رہے گا ، عوام کیلئے مشکلات بھی بڑھتی رہیں گی اور ادارے کی بے اعتباری بھی۔ یہ وقت اصلاح، بہتری اور ذمہ داری کا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان پوسٹ اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرے گا اور عوام کو مایوسی کے بجائے اطمینان فراہم کرے گا۔




