کوئٹہ شہر میں ہاؤسنگ اسکیموں کا ایک نیا کاروبار سامنے آیا ہے، جہاں شہریوں کو پلاٹوں اور بہتر مستقبل کے خواب دکھا کر ان کی جیبیں خالی کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ہاؤسنگ اسکیموں کے نام پر ہونے والے معاملات کو بلوچستان کی تاریخ کے بڑے زمین سے متعلق اسکینڈلز میں شمار کیا جا رہا ہے۔
اس پورے معاملے میں سب سے بڑا سوال کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (QDA) کے کردار پر اٹھتا ہے۔ شہریوں کے مطابق ایک درخواست جمع کرانے کے بعد ہاؤسنگ اسکیم کے اعلان اور اس کے عملی معاملات پر سوالات پیدا ہوتے ہیں، جبکہ بعد میں متعلقہ ادارے کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آتا ہے کہ ہمارے پاس واضح بائی لاز یا مؤثر قانونی اختیار موجود نہیں کہ ایسی اسکیموں کے خلاف کارروائی کیسے کی جائے۔
دوسری جانب کوئٹہ شہر اور گردونواح میں بڑی تعداد میں ہاؤسنگ اسکیمیں موجود ہیں، جن میں بعض اسکیموں کے حوالے سے ان کی قانونی حیثیت، منظوری، این او سی اور زمین کے ریکارڈ پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر متعلقہ اداروں کے پاس قانون اور اختیارات موجود نہیں تو پھر شہریوں کو ہاؤسنگ اسکیموں کے نام پر ہونے والے ممکنہ نقصان سے کون بچائے گا؟ اور اگر قوانین اور بائی لاز موجود ہیں تو ان پر عمل درآمد کیوں نہیں ہو رہا؟
اولس نیوز کوئٹہ شہر میں ہاؤسنگ اسکیموں کے اس معاملے کو عوام کے سامنے لائے گا۔ کون سی اسکیم قانونی ہے، کون سی غیر قانونی، کس کے پاس این او سی ہے، زمین کس کی ملکیت ہے اور شہریوں سے کس بنیاد پر رقم وصول کی جا رہی ہے—ان تمام سوالات پر حقائق اور دستاویزات کے ساتھ بات کی جائے گی۔
شہر کے بااثر افراد ہوں یا ہاؤسنگ اسکیموں سے وابستہ دیگر شخصیات، اولس نیوز کسی کو بھی عوامی مفاد کے سوالات سے بالاتر نہیں سمجھے گا۔ ہمارا مقصد کسی پر الزام لگانا نہیں بلکہ حقائق سامنے لانا اور شہریوں کی آواز بننا ہے۔




