اسلام آباد: صحافی و تجزیہ کار کامران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
ان کے مطابق اگر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کی قیادت غیرمشروط طور پر لانگ مارچ کی کال واپس لے لیں تو موجودہ پی ٹی آئی صوبائی حکومت کا تسلسل برقرار رہ سکتا ہے۔
تاہم، اس دعوے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ 29 ستمبر کو سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں نہ ایمرجنسی اور نہ ہی گورنر راج کے نفاذ کا کوئی حتمی فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس سے قبل وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری بھی کہہ چکے ہیں کہ گورنر راج نہیں لگ رہا جبکہ ایمرجنسی کا آپشن زیرِ غور ہے اور حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق نیا دعویٰ




