اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں فی الحال گورنر راج نافذ نہیں کیا جا رہا، تاہم ایمرجنسی کے نفاذ کا آپشن زیرِ غور ہے اور اس حوالے سے حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اگر صوبے میں ایمرجنسی نافذ کی گئی تو صوبائی اسمبلی برقرار رہے گی اور اسے تحلیل نہیں کیا جائے گا۔ ایسی صورت میں صوبے کا چیف ایگزیکٹو وفاق کا نمائندہ ہوگا، جو گورنر بھی ہو سکتا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے اور وفاقی حکومت اس معاملے پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کا وقت اور طریقہ کار ابھی حتمی نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی کہا ہے کہ اگر آئینی شرائط پوری ہوئیں اور ایمرجنسی کی ضرورت پیدا ہوئی تو آئین میں موجود طریقہ کار کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
اس معاملے پر سیاسی سطح پر مختلف مؤقف سامنے آ رہے ہیں، جبکہ موجودہ صورتحال میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے حوالے سے حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا آپشن زیرِ غور، گورنر راج نہیں لگ رہا: طارق فضل چوہدری




