اسلام آباد مذاکرات میں کشیدگی: بند کمرے کے اندر کیا ہوا، اندرونی تفصیلات منظرِ عام پر

اسلام آباد کے ایک پرتعیش ہوٹل میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ایک غیر معمولی سفارتی منظر دیکھنے کو ملا۔ امریکہ اور ایران کے اعلیٰ حکام کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات اگرچہ کسی حد تک کامیابی کے قریب پہنچے، مگر بالآخر کوئی حتمی نتیجہ نہ نکل سکا۔ ماحول میں ایک ساتھ امید اور کشیدگی دونوں موجود تھیں۔

اطلاعات کے مطابق، ہوٹل کے اندر دونوں ممالک کے وفود کے لیے الگ الگ حصے مختص کیے گئے تھے، جبکہ ایک مشترکہ کمرے میں پاکستانی ثالثوں کی موجودگی میں براہِ راست بات چیت ہوئی۔ سکیورٹی انتہائی سخت تھی، یہاں تک کہ مرکزی کمرے میں موبائل فون لے جانے کی اجازت بھی نہیں تھی، جس کے باعث نمائندوں کو اپنے اپنے حکام سے رابطے کے لیے بار بار باہر جانا پڑا۔

مذاکرات کے دوران ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید کوئی بڑا معاہدہ طے پا جائے۔ ذرائع کے مطابق دونوں فریقین کئی اہم نکات پر خاصی پیش رفت کر چکے تھے، لیکن چند پیچیدہ معاملات ایسے تھے جن پر فوری اتفاق ممکن نہ ہو سکا۔

ابتدائی طور پر ماحول کافی کشیدہ تھا اور کسی بھی فریق کی جانب سے لچک دکھانے کے آثار کم تھے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ فضا میں کچھ نرمی آئی اور مذاکرات کو مزید جاری رکھنے کی بات بھی ہوئی، مگر ایٹمی پروگرام اور خطے کی حساس صورتحال جیسے مسائل پر اختلافات دوبارہ شدت اختیار کر گئے۔

ایک موقع پر گفتگو اس قدر سخت ہو گئی کہ کمرے سے اونچی آوازیں بھی سنائی دینے لگیں۔ اس صورتحال میں پاکستانی حکام نے مداخلت کر کے وقفہ کروایا تاکہ حالات کو سنبھالا جا سکے اور دونوں فریقین کو ٹھنڈے دماغ سے دوبارہ بات کرنے کا موقع ملے۔

امریکا نے اپنے مؤقف میں واضح کیا کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا، جبکہ ایران نے پابندیوں کے خاتمے اور اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی کو بنیادی شرط قرار دیا۔

آخر میں امریکی وفد کی جانب سے پیشکش کو حتمی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اب فیصلہ ایران کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اسے قبول کرتا ہے یا نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں