اسلام آباد: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے معاملے پر سیاسی ردعمل سامنے آگیا، جہاں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومتی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف سیاسی اور آئینی جدوجہد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بجائے مسائل کو سیاسی مذاکرات اور باہمی مشاورت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق صوبے کی صورتحال پر تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت اس فیصلے کو قبول نہیں کرے گی اور عوامی رابطوں، پارلیمانی کارروائی اور عدالتی فورم کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کرے گی۔
جے یو آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور امن و امان کے مسائل کا حل سیاسی کشیدگی بڑھانے کے بجائے مؤثر اقدامات اور قومی اتفاق رائے میں ہے۔ انہوں نے فریقین پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کریں۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات سامنے آرہے ہیں۔ ایک جانب وفاقی حکومت امن و امان کی صورتحال کو اپنے اقدامات کی وجہ قرار دے رہی ہے، جبکہ مخالف سیاسی حلقے ایسے اقدامات کے بجائے مذاکرات اور آئینی طریقہ کار پر زور دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ اور اس کے خلاف آئندہ قانونی و سیاسی اقدامات سے متعلق صورتحال مزید پیش رفت کے بعد واضح ہوگی۔



