کوئٹہ(اولس نیوز ) گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمتوں میں تعیناتیوں کے عمل میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد بھرتیوں کے عمل میں میرٹ کو یقینی بنانا ہے۔ میلاک ہال میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے کہا کہ سرکاری ملازمتوں میں تعیناتیاں خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر ہوں گی، تاہم انہوں نے کلاس فور کی ملازمتوں کے حوالے سے کہا کہ یہ چھوٹی ملازمتیں ان کی جماعت کے کارکنوں کو دی جائیں گی۔ گورنر کے اس بیان کے بعد یہ قانونی سوال بھی سامنے آتا ہے کہ کیا کسی سرکاری ملازمت کو سیاسی جماعت کے کارکنوں کے لیے مخصوص کرنے کی اجازت قانون میں موجود ہے۔ دستیاب بلوچستان سول سرونٹس (Appointment, Promotion and Transfer) Rules کے مطابق سرکاری ملازمتوں میں تقرری کے لیے مقررہ طریقہ کار، اہلیت اور متعلقہ سلیکشن کے اصول موجود ہیں، تاہم دستیاب قواعد میں ایسی عمومی شق سامنے نہیں آتی جس کے تحت صرف کسی سیاسی جماعت کا کارکن ہونے کی بنیاد پر کلاس فور کی سرکاری ملازمت دی جا سکے۔ اس لیے گورنر بلوچستان کا یہ بیان فی الحال ایک سیاسی بیان کے طور پر رپورٹ کیا جا سکتا ہے، جبکہ اسے قانونی اختیار قرار دینے کے لیے متعلقہ قانون، رول، نوٹیفکیشن یا حکومتی حکم نامہ سامنے آنا ضروری ہوگا۔ دوسری جانب سرکاری بھرتیوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے بھی یہ واضح ہونا باقی ہے کہ اے آئی کو بھرتی کے کس مرحلے میں استعمال کیا جائے گا، امیدواروں کی جانچ اور انتخاب کا معیار کیا ہوگا اور حتمی تقرری کس قانونی طریقہ کار کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔ یوں ایک جانب بھرتیوں میں اے آئی کے ذریعے میرٹ اور شفافیت یقینی بنانے کی بات کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب کلاس فور کی ملازمتیں جماعتی کارکنوں کو دینے سے متعلق گورنر کے بیان نے میرٹ، قانونی اختیار اور سرکاری بھرتیوں کے موجودہ قواعد کے حوالے سے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
سرکاری بھرتیاں اے آئی کے ذریعے، کلاس فور کی نوکریاں جماعتی کارکنوں کو دینے کا اعلان؛ گورنر بلوچستان
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل




