متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اراکینِ سندھ اسمبلی نے پشاور سے اغوا ہونے والی مہمند قبیلے کی گیارہ سالہ معصوم بچی اور اس کی مظلوم ماں کے ساتھ کچے کے ڈاکوؤں کی وحشیانہ درندگی اور اجتماعی زیادتی کے لرزہ خیز واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے، متحدہ اراکینِ اسمبلی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت عسکری قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ کچے کے علاقوں میں نام نہاد ترقیاتی پیکیجز کے دعوے بند کر کے ڈاکوؤں کے خاتمے کے لئے فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری ایک فیصلہ کن اور مؤثر آپریشن شروع کریں، ایم کیو ایم پاکستان کے ارکانِ پارلیمان نے اس اندوہناک واقعے کے چونکا دینے والے حقائق کو آشکار کرتے ہوئے بتایا کہ امن و امان کی صورتحال اس حد تک گر چکی ہے کہ اب صوبائی سرحدیں بھی محفوظ نہیں رہیں، جرائم پیشہ عناصر نے پشاور کے علاقے در آزار سے مہمند قوم کی ایک گیارہ سالہ معصوم بچی کو اغواء کیا اور کچے کے علاقے سے فون کر کے خاندان سے پندرہ لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا، اغواء کاروں کے کہنے پر جب مظلوم ماں رقم لے کر سکھر کے نواحی علاقے محمد آباد پہنچی تو کچے کے بدنام زمانہ اور اس کے کارندوں نے رقم چھین لی اور بچی کو یرغمال بنا کر مسلسل اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے، کچے کے ڈاکوؤں کے سفاکانہ اثر و رسوخ اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے باعث شدید خوف کے مارے دکھیاری ماں اور اس کے خاندان نے اب تک پولیس میں ایف آئی آر درج نہیں کروائی، حق پرست اراکینِ سندھ اسمبلی نے ڈاکوؤں اور انکے قبیلے کی جانب سے یہ انتہائی شرمناک اور مضحکہ خیز مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ بچی کو خریدا گیا ہے، حق پرست اراکین نے سوال اٹھایا کہ کسی انسان خصوصاً ایک نابالغ بچی کی خرید و فروخت کا عذر پیش کرنا کس قانون کے تحت جائز ہے؟ اگرچہ کارروائی کے نام پر کچھ خواتین سہولت کاروں کو گرفتار کیا گیا ہے لیکن کچے کی حد تک حکومت کی رٹ تاحال مفلوج نظر آتی ہے، کچے کے جن علاقوں میں پولیس بے بس ہو چکی ہے وہاں سندھ اور پنجاب کی حکومتیں فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور رینجرز کو گرینڈ آپریشن کا ٹاسک دیں تاکہ ان نوگو ایریاز کا مستقل خاتمہ ہو، سکھر اور کچے کے تمام داخلی و خارجی راستوں کی ناکہ بندی کر کے مغوی بچی کو فوری بازیاب کرایا جائے اور انہیں ریاست کی طرف سے مکمل سیکیورٹی دی جائے، مظلوم خاندان کے خوف کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت وقت پولیس کو ہدایت کرے کہ وہ ڈاکوؤں کے خوف سے بالاتر ہو کر ریاست کی مدعیت میں بدنام زمانہ ڈاکوؤں کے خلاف دہشت گردی اور سنگین جرائم کے تحت ایف آئی آر درج کرے، عورتوں کی تذلیل اور بچوں کے استحصال میں ملوث اس پورے نیٹ ورک اور ان کے قبائلی سرپرستوں کو گرفتار کر کے انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کے ذریعے سرعام پھانسی کی سزا دی جائے، ایم کیو ایم پاکستان کے اراکینِ سندھ اسمبلی نے کہا کہ وہ مہمند قبیلے کی اس مظلوم بیٹی اور اسکے خاندان کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے اور انصاف کے حصول اور کچے کے ڈاکوؤں کے مکمل خاتمے تک اسمبلی کے اندر اور باہر اپنی بھرپور آواز بلند کرتے رہیں گے،بعد ازاں ایم کیو ایم کے سینئر مرکزی رہنماء سید امین الحق نے بلوچستان کے صوبائی صدر عمران کاکڑ کو بہادرآباد طلب کیا اور ہدایت کی کہ وہ متاثرہ خاندان سے رابطہ کریں اور ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کا سلسلہ جاری رکھیں، ملاقات میں مرکزی رہنما شبیر قائمخانخی، ارشاد ظفیر، رکن قومی اسمبلی جاوید حنیف و دیگر بھی موجود تھے۔
ایم کیو ایم پاکستان کا کچے کے ڈاکوؤں کی درندگی پر شدید غم و غصّے کا اظہار اور احتجاج
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل




