بلوچستان کابینہ نے صوبے میں مزید تین نئے اضلاع اور ایک نئے ڈویژن کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔

ان فیصلوں کے بعد بلوچستان میں اضلاع کی تعداد بڑھ کر 42 جبکہ ڈویژنز کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ نئے اضلاع کوئٹہ، چاغی اور خضدار کو تقسیم کرکے بنائے گئے ہیں۔
نئے اضلاع، ڈویژنز اور انتظامی یونٹس کے قیام کی منظوری پیر کو کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں دی گئی۔
تاہم اس حوالے سے سرکاری طورپر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون شاہد رند نے تصدیق کی کہ کابینہ اجلاس میں نئے انتظامی یونٹس سے متعلق فیصلے کیے گئے ہیں تاہم انہوں نے اس کی مکمل تفصیلات نہیں بتائیں۔

ذرائع کے مطابق کابینہ نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کو دو اضلاع، کوئٹہ ایسٹ اور کوئٹہ ویسٹ میں تقسیم کرنے کی منظوری دی۔
فیصلے کے مطابق ریلوے ٹریک دونوں اضلاع کے درمیان حد بندی تصور ہو گا۔ ریلوے لائن کے ایک جانب کوئٹہ ویسٹ جبکہ دوسری جانب کوئٹہ ایسٹ ہو گا۔
کوئٹہ ویسٹ میں بروری کے نام سے نئی سب ڈویژن قائم کی جائے گی جبکہ مستونگ کو قلات ڈویژن سے نکال کر کوئٹہ ڈویژن میں شامل کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی گئی۔
اجلاس میں وڈھ کو خضدار سے الگ کرکے نیا ضلع بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
اس ضلعے میں وڈھ، نال اور اورناچ شامل ہوں گے۔ وڈھ اور نال کو تحصیل جبکہ آرنجی، اورناچ اور گریشہ کو سب تحصیل کا درجہ دے دیا گیا ۔
کابینہ نے قلات ڈویژن کو تقسیم کرکے لسبیلہ کے نام سے نئے ڈویژن کے قیام کی منظوری بھی دی جس میں لسبیلہ، حب اور آواران کے اضلاع شامل ہوں گے۔
سابق قلات ڈویژن اب خضدار ڈویژن کہلائے گا جس کا ہیڈکوارٹر خضدار ہوگا۔ اس ڈویژن میں قلات، سوراب اور وڈھ شامل ہوں گے۔
کابینہ نے شہید سکندر آباد سے تبدیل کرکے ضلع کا نام دوبارہ سوراب رکھنے کی منظوری بھی دے دی۔
زہری کو خضدار سے الگ کرکے سوراب کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
یاد رہے وڈھ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل اور ان کے سیاسی و قبائلی مخالف پیپلز پارٹی کے رہنما میر شفیق الرحمان مینگل کا آبائی علاقہ ہے۔ زہری سابق وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کا آبائی علاقہ ہے۔
کابینہ نے سارونہ سب تحصیل کو بھی خضدار سے الگ کرنے کی منظوری دی۔ سارونہ کو لسبیلہ یا حب میں شامل کرنے کا حتمی فیصلہ خصوصی کمیٹی کرے گی۔
رخشان ڈویژن میں بھی بڑی تبدیلی کی گئی ہے۔ کابینہ نے چاغی کو تقسیم کرکے تفتان کے نام سے نیا ضلع بنانے کی منظوری دے دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں