خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی ایک کم عمر بچی کے اغوا، مبینہ تاوان، اور اس کی والدہ کے ساتھ ہونے والے انسانیت سوز سلوک نے کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی ایک کم عمر بچی کے اغوا، مبینہ تاوان، اور اس کی والدہ کے ساتھ ہونے والے انسانیت سوز سلوک نے کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
متاثرہ خاندان کے مطابق، 10 سالہ بچی کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کے بعد ڈاکوؤں کے ایک گروہ کے حوالے کیا گیا، جہاں اہلِ خانہ سے پہلے 30 لاکھ روپے تاوان طلب کیا گیا۔

اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ جب بچی کی والدہ رقم لے کر پہنچیں تو انہیں بھی یرغمال بنا لیا گیا اور کئی روز تک تشدد اور مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں، خاندان سے مزید رقم کا مطالبہ کیا گیا۔

متاثرہ خاندان یہ بھی الزام عائد کر رہا ہے کہ انہوں نے متعدد بار پولیس اور متعلقہ اداروں سے رجوع کیا، مگر بروقت کارروائی نہ ہونے کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب، سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ بعض مقدمات کو قومی سطح پر بھرپور توجہ ملتی ہے، جبکہ بعض انتہائی سنگین واقعات میڈیا اور حکومتی توجہ سے محروم رہ جاتے ہیں۔

یہ معاملہ صرف ایک خاندان کا نہیں، بلکہ قانون کی عملداری، خواتین اور بچوں کے تحفظ، اور انصاف کے نظام پر عوامی اعتماد کا امتحان بن چکا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنان اور سماجی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے، اور ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔۔

بطور صحافی، ہماری ذمہ داری ہے کہ متاثرین کی آواز سامنے لائیں، تاکہ کسی بھی معصوم شہری کو دوبارہ ایسے ظلم کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں