چین کے دارالحکومت بیجنگ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ایک اہم سربراہی ملاقات ہوئی جس نے عالمی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ بیجنگ کو زیادہ وقت نہیں گزرا، اسی لیے دنیا بھر کے سیاسی مبصرین اس ملاقات کا موازنہ امریکی دورے سے بھی کر رہے ہیں۔
چینی صدر شی جن پنگ اپنے مہمانوں کی خصوصی انداز میں میزبانی کے لیے مشہور ہیں اور اس بار بھی پیوٹن کو خاص اہمیت دی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے رسمی مذاکرات کے علاوہ غیر رسمی ماحول میں بھی ملاقات کی، جہاں چائے کی میز پر عالمی سیاست، معیشت اور بین الاقوامی تعلقات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اس وقت خود کو ایک ایسے عالمی طاقتور ملک کے طور پر پیش کر رہا ہے جو دنیا کی بڑی طاقتوں کو ایک ساتھ اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ ایک طرف امریکہ اور دوسری طرف روس، دونوں کے رہنماؤں کے مسلسل دورے چین کے بڑھتے سفارتی اثر و رسوخ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اس ملاقات کے دوران روس اور چین کے درمیان معاشی تعاون، تجارت اور عالمی نظام سے متعلق کئی اہم معاملات زیرِ بحث آئے۔ رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان درجنوں معاہدوں اور مشترکہ دستاویزات پر دستخط کی توقع ہے۔
روس اس وقت مغربی پابندیوں اور یوکرین جنگ کے باعث شدید دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ چین روس کے لیے ایک مضبوط معاشی سہارا بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیوٹن کے اس دورے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے مرحلے کی شروعات قرار دیا جا رہا ہے۔




