ورکرز ویلفیئر بورڈ میں مبینہ کرپشن کے نئے انکشافات،

ورکرز ویلفیئر بورڈ میں مبینہ طور پر صرف تین دن کی بھرتی مہم شروع کیے جانے کی اطلاعات نے صوبے بھر میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ عوامی حلقوں میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر اتنے کم وقت میں بھرتیوں کا عمل کیوں مکمل کیا جا رہا ہے، اور کیا واقعی اس میں میرٹ، شفافیت اور قانون کی مکمل پاسداری ممکن ہو سکے گی یا نہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے سرکاری بھرتیاں نہیں بلکہ کسی نجی کمپنی کی فاسٹ ٹریک سیل شروع ہونے جا رہی ہو۔
ذرائع کے مطابق گریڈ 18 تک کی آسامیوں پر براہ راست بھرتیوں کی تیاری جاری ہے۔ اس پر اعتراض کیا جا رہا ہے کہ جہاں دیگر محکموں میں گریڈ 9، گریڈ 11، سب انجینئر، پولیس اور سکول ایجوکیشن کی نوکریوں کیلئے باقاعدہ ٹیسٹ اور بلوچستان پبلک سروس کمیشن یا دیگر اداروں کے ذریعے مراحل طے کیے جاتے ہیں، وہاں اتنے اہم گریڈ کی بھرتیوں کو چند دنوں میں مکمل کرنے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے۔
عوامی حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ ماضی میں مزدوروں کے بچوں کیلئے سکالرشپس میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ہزاروں طلبہ کو بغیر شفاف طریقہ کار کے مخصوص اداروں میں بھیجا گیا، جہاں تعلیمی معیار اور ماحول پر بھی سوالات اٹھے۔ بعض حلقوں کے مطابق ایک طالبعلم پر ماہانہ بھاری اخراجات ظاہر کیے گئے، جس سے مالی بدعنوانی کے شبہات مزید گہرے ہوئے۔ ابھی ان معاملات کی گرد بھی نہیں بیٹھی کہ اب نوکریوں کی نئی سکیم زیر بحث آ گئی ہے۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سابق ادوار میں ایک متنازع نان لوکل شخصیت، جسے بعض حلقے بااثر فرنٹ مین قرار دیتے ہیں، بھرتیوں اور دیگر معاملات میں اثر و رسوخ رکھتی رہی۔ عوامی سطح پر یہ الزام بھی لگایا جاتا رہا کہ ملازمتیں فروخت کی گئیں، غیر مقامی افراد کو ترجیح دی گئی اور مقامی نوجوانوں کا حق متاثر ہوا۔ اگرچہ ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی، مگر یہ تاثر مسلسل زیر گردش رہا ہے۔
دلچسپ امر یہ بتایا جا رہا ہے کہ سیکرٹری بدل گئے مگر نظام وہی برقرار ہے۔ عوامی حلقوں میں کہا جا رہا ہے کہ صرف دکان کا بورڈ بدلا گیا ہے جبکہ کاروبار کا طریقہ وہی پرانا چل رہا ہے۔ بعض ناقدین کے مطابق انتظامی تبدیلیاں اگر عملی اصلاحات نہ لا سکیں تو ایسی تبدیلیوں کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔
موجودہ انتظامیہ پر بھی مختلف نوعیت کے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ جونیئر افسران کو غیر معمولی اختیارات دے دیے گئے، جبکہ فیصلے چند افراد تک محدود ہیں۔ ناقدین کے مطابق اگر ادارہ اتنے بڑے پیمانے پر فیصلے کر رہا ہے تو اس میں باقاعدہ بورڈ، قواعد و ضوابط اور اجتماعی منظوری کا عمل واضح ہونا چاہیے۔
بات صرف نوکریوں تک محدود نہیں رکھی جا رہی بلکہ یہ الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں کہ بعض افراد سیکیورٹی کے نام پر رقم لیتے رہے، کچھ اساتذہ کو گھروں میں بٹھا کر تنخواہیں یا منتھلی ادائیگیاں جاری رہیں، اور کچھ ملازمین ایسے بھی رہے جو ڈیوٹی پر آئے بغیر تنخواہیں لیتے رہے۔ اگر یہ دعوے درست ہیں تو یہ نہ صرف مالی بدعنوانی بلکہ مزدوروں کے حقوق پر بھی ڈاکہ ہے۔
عوامی حلقوں میں یہ سوال بھی شدت سے پوچھا جا رہا ہے کہ اگر دیگر صوبوں کے افراد بلوچستان کے وسائل سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور مقامی نوجوان بے روزگار ہیں تو پھر یہ ادارہ کس مقصد کیلئے قائم کیا گیا تھا۔ مزدوروں اور ان کے بچوں کی فلاح کیلئے بنائے گئے ادارے سے توقع تھی کہ وہ مقامی مستحق خاندانوں کو تعلیم، روزگار اور سہولتیں دے گا، مگر اگر وہاں بھی اقربا پروری اور سفارش کا کلچر ہو تو پھر امید کیسے قائم رہے گی۔
سیاسی سطح پر بھی یہ بحث موجود ہے کہ مشیران اور اعلیٰ عہدیداروں سے عوام نے اصلاحات کی امید لگائی تھی۔ خاص طور پر پڑھے لکھے اور قانون دان افراد سے توقع تھی کہ وہ نظام میں شفافیت لائیں گے، مگر اگر ان کے دور میں بھی کرپشن، بے ضابطگی اور میرٹ سے ہٹ کر فیصلوں کے الزامات برقرار رہیں تو عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔
اسی تناظر میں سیکرٹری لیبر سمیت مختلف شخصیات کے نام بھی مخالفین کی تنقید میں سامنے آتے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پوسٹنگ بچانے، اختیارات برقرار رکھنے اور سیاسی حمایت حاصل کرنے کیلئے ہر قسم کی بے ضابطگی برداشت کی جاتی ہے۔ اگرچہ ان الزامات کا حتمی فیصلہ تحقیقات سے ہی ممکن ہے، لیکن ان کے مسلسل سامنے آنے سے ادارے کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
عوام اور نوجوانوں کا مطالبہ ہے کہ اگر نئی بھرتیاں واقعی ہونی ہیں تو ان کا مکمل اشتہار جاری کیا جائے، مناسب وقت دیا جائے، ٹیسٹ اور انٹرویو شفاف ہوں، اور تمام عمل آزاد نگرانی میں مکمل کیا جائے۔ ساتھ ہی سابق سکالرشپ اسکینڈلز، مبینہ جعلی تقرریوں، غیر حاضر ملازمین اور مالی بے ضابطگیوں کی بھی غیر جانبدار تحقیقات ہونی چاہئیں۔
آخر میں سوال وہی ہے کہ یہ ادارہ مزدوروں کے بچوں کیلئے بنایا گیا تھا یا کسی مخصوص گروہ کے کاروباری مفادات کیلئے؟ اگر واقعی حکومت مزدور طبقے سے مخلص ہے تو اسے صرف بیانات نہیں بلکہ سخت احتساب، شفاف بھرتیوں اور مکمل اصلاحات کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا، کیونکہ جب تک کردار وہی رہیں گے تب تک سکیمیں بدلتی رہیں گی مگر کہانیاں نہیں بدلیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں