غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپنی کی ایک سابق ملازمہ نے جمی ڈونلڈسن (مسٹر بیسٹ) کی میڈیا پروڈکشن کمپنی پر جنسی ہراسانی، صنفی امتیاز اور زچگی کی چھٹی سے واپسی کے فوراً بعد ملازمت ختم کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
سابق سوشل میڈیا منیجر لورین میورومیٹس نے نارتھ کیرولائنا کی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ زچگی کی چھٹی ختم ہونے کے صرف چند ہفتوں بعد انہیں نوکری سے فارغ کر دیا گیا، حالانکہ وہ کئی برسوں سے کمپنی کا حصہ تھیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حمل اور زچگی کے دوران بھی ان پر مسلسل کام کا دباؤ رکھا گیا، یہاں تک کہ ہسپتال میں موجودگی کے دوران بھی میٹنگز میں شرکت کرنا پڑی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ تھا اگر کام سے انکار کیا تو ملازمت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ کمپنی کا ماحول خواتین ملازمین کے لیے نامناسب اور توہین آمیز تھا۔ ساتھ ہی سی ای او جیمز وارن کے حوالے سے بھی غیر مناسب رویے کا ذکر کیا گیا ہے۔
لورین کے مطابق یہ اقدام امریکی فیملی اینڈ میڈیکل لیو ایکٹ کی خلاف ورزی ہے، جو ملازمین کو زچگی سمیت مخصوص حالات میں قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب بیسٹ انڈسٹریز نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ صرف توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔
کمپنی نے مؤقف اپنایا کہ ملازمت ختم کرنے کی وجہ ہراسانی نہیں بلکہ تنظیمی تبدیلیاں اور عہدے کا خاتمہ تھا۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جمی ڈونلڈسن کو ٹائم میگزین کی بااثر ترین شخصیات کی فہرست میں شامل کیے جانے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔




