صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان میں جنگ کے دوران امریکا کا ساتھ دینے والے افغان شہریوں کے لیے امریکی آبادکاری پروگرام روکنے کے بعد اب انہیں افریقی ملک کانگو منتقل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق تقریباً گیارہ سو افغان شہری اس فیصلے سے متاثر ہوں گے، جن میں مترجمین، سابق افغان خصوصی فورسز اہلکار اور امریکی فوجیوں کے اہل خانہ شامل ہیں، جبکہ ان میں چار سو سے زائد بچے بھی موجود ہیں۔
یہ افغان شہری ایک سال سے زیادہ عرصے سے قطر میں غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں، جہاں انہیں دو ہزار اکیس میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد حفاظتی مقصد کے تحت منتقل کیا گیا تھا۔
امدادی تنظیم کے سربراہ شان وین ڈائیور نے انکشاف کیا ہے کہ افغان شہریوں کو دو راستے دیے جا رہے ہیں، یا تو افغانستان واپس جائیں یا کانگو منتقل ہو جائیں۔
انہوں نے اس منصوبے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ دراصل ان لوگوں کو خطرے میں دھکیلنے کے مترادف ہے، کیونکہ افغانستان واپسی ان کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق کانگو خود شدید انسانی بحران، بدامنی اور پناہ گزینوں کے مسائل کا شکار ہے، اس لیے وہاں منتقلی بھی افغان شہریوں کے لیے محفوظ راستہ نہیں سمجھی جا رہی۔
انسانی حقوق کے حلقوں نے اس اقدام کو امریکا کے ساتھ کھڑے ہونے والوں سے بے وفائی قرار دیا ہے۔
قطر میں موجود کئی افغان شہریوں نے کانگو جانے سے انکار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ جب ان کے اہل خانہ امریکا میں موجود ہیں تو انہیں افریقہ کیوں بھیجا جا رہا ہے؟




